قازقستان میں رائے دہندگان کی ایک واضح اکثریت نے صدر قاسم جومارت توکائیف کی طرف سے پیش کردہ آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
ملک کے انتخابی کمیشن کے مطابق، 77 فیصد رائے دہندگان نے مسودے کے حق میں جبکہ 18٫66 فیصد نے مخالفت میں ووٹ دیا ہے۔
ان اصلاحات کے نتیجےمیں سابق صدر نور سلطان نظر بائیف اپنی کچھ مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ 81 سالہ نظر بائیف نے تقریباً تین دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے بعد 2019 میں استعفیٰ دے دیا تھا تاہم ان کا "قومی رہنما” کا خطاب ابھی تک برقرار تھا۔
صدرتوکائیف کی حکومت کے خلاف جنوری میں بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے۔