کراچی: ( اسٹاف رپورٹر) سکریٹری بورڈز و جامعات مرید راحموں کی مخالف کے باعث جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے عہدے کے لیے انٹرویوز تیسری مرتبہ ملتوی کرادیئے گئے ہیں۔ امیدواروں نے انٹرویو ملتوی ہونے کی تصدیق کی اور اس امر پر حیرانی کا اظہار کیا کہ جب سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ نے مستقل وائس چانسلر مقرر کرنے کا حکم انٹرویوز کرنے کا حکم دے رکھا ہے تو پھر مستقل وائس چانسلر کے عمل میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ تمام امیدواروں کی تعلیمی اسناد، تجربے اور تحقیقی مظامین کی متعلقہ جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے چانچ کے بعد امیدواروں کو پہلے مئی پھر جون کے پہلے ہفتے اور بعد میں 14 جون کو انٹرویوز کی تاریخ دی گئی اور پھر سکریٹری بورڈز و جامعات مرید راحموں اور سکریٹری کالج ایجوکیشن خالد حیدر شاہ کی سخت مخالفت کے باعث انٹرویوز ملتوی کرادئیے گئے۔
زرائع نے بتایا ہے کہ سکریٹری بورڈز و جامعات مرید راحموں عبوری مدت کے لیے آئی ہوئ قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ناصرہ خاتون کو ہر حال میں ریٹائرمنٹ تک عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ خود بھی جامعہ کراچی کے شعبہ حیوانیات میں میں زیر تعلیم رہے اور قائم مقام وائس چانسلر کا تعلق بھی اسی شعبے سے ہے۔ قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر نادرہ خاتون کے دور میں میں ہی جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ پر خود کشی کا ہولناک واقع ہوا تھا جس نے عبوری انتظامیہ کی انتظامی قابلیت پر سوالات اٹھا دئیے تھے۔
مگر سکریٹری بورڈز و جامعات نے کوئی ایکشن نہیں لیا تھا اورتحقیقات نہ کر کے انھیں بچا لیا۔ سکریٹری بورڈز و جامعات مرید راحموں نے بتایا کہ وہ جامعہ کراچی کے شعبہ حیوانیات سے فارغ التحصیل ضرور ہیں مگر انھوں نے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ناصرہ خاتون سے نہیں پڑھا ہے انھوں نے کہا کہ وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور وہ قائم مقام انتظامیہ کی حمایت نہیں کرتے یہ سب میرے خلاف پروپگنڈہ ہے بس ہم چاہتے ہیں کہ تمام امیدواروں کو یکساں مواقع ملیں اور ان کی تمام دستاویزات کی جانچ ہو۔