ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت اور بنگلا دیش میں 20 سال کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریاں، ہلاکتوں کی تعداد 116 ہوگئی

ڈھاکہ / نئی دہلی : بھارت اور بنگلا دیش میں 20 سال کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریاں، ہلاکتوں کی تعداد 116 ہوگئی ،بارشوں اور سیلاب سے ایک کروڑ کے قریب افراد متاثر ‘بنگلا دیش کا شہر سلہٹ مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ،گلیوں میں کشتیاں چلنے لگی ہیں،مون سون کی موسلا دھار بارشوں نے ہوائی اڈے کو ڈبو دیاہے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت اور بنگلا دیش میں طوفان برق و باراں اور سیلاب سے اب تک کم از کم 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بنگلا دیش کا شہر سلہٹ مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا جس کے بعد سلہٹ میں گلیوں میں کشتیاں چلنے لگی ہیں۔

بھارت اور بنگلا دیش میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں نے ایک ہوائی اڈے کو ڈبو دیا ہے جبکہ سیل فون ٹاور، پل اور بجلی کی لائنیں گرا دی ہیں، لاکھوں لوگوں کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہے اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف بھارتی ریاست آسام کے 35 میں 32 اضلاع پانی میں گِھر گئے ہیں، مختلف مقامات پر پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں سیلاب مزید شدید ہونے کا خدشہ ہے۔

ماحولیاتی ماہرین نے بتایا کہ بنگلا دیش کے کچھ سرکاری عہدے داروں نے حالیہ سیلاب کو 2004 کے بعد ملک کا بدترین سیلاب قرار دے دیا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جب کہ ہنگامی کارکنان متاثرہ افراد تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے سیلاب زدہ علاقوں میں مون سون کی بارشوں نے مزید مصائب پیدا کر دیے ہیں، لاکھوں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں