ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تاجروں کا عیدالاضحی سے قبل پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

کراچی: ملک بھر کی تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ عیدالاضحی کے کاروباری سیزن کے موقع پر توانائی بحران کے سبب لگائی گئی پاپندیوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور سابقہ کاروباری اوقات بحال کیے جائیں۔

 عیدالضحی کے سیزن سے متعلقہ کاروبار کو اوقات کی پابندیوں سے استثنی سے بحران سے دوچار تاجروں کی بقائ ممکن ہوسکے گی۔ یہ مطالبہ 40 سے زائد شہروں سے آئے ہوئے مرکزی رہنماﺅں اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے آل کراچی تاجر الائنس کے تحت آل پاکستان تاجر کنوینشن سے خطاب کے دوران کیا۔

 انہوں نے کہا کہ کاروباری اوقت کار کو کم کرنے کی بجائے سرکاری اوقات کار کو کم کیا جائے۔ عیدالاضحی کے بعد تاجروں کے نمائندے اور حکومت کی باہمی مشاورت سے کاروباری اوقات کار مقرر کیے جاسکتے ہیں۔

آل کراچی تاجر الائنس کے چیئر مین حکیم شاہ ، سرپرست اعلی خواجہ جمال سیٹھی ، وائس چیئر مین شاکر فینسی ، عبدلقیوم آغا ، رضوان شاہ ، رضوان عرفان سمیت دیگر نے کہا کہ اس وقت ملک میں توانائی کے بحران۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ روپے کی بے قدری اور حالیہ بجٹ میں بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں میں اضافہ اور دیگر مسائل نے ملک میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو تباہ کردیا ہے۔

 کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے تاجر برداری شدید پریشان ہے۔بازار اور دکانیں جلد بند کرنے سے توانائی کا بحران حل نہیں ہوگا۔اگر رات کو کاروبار ہوتا ہے تو حکومت کو مختلف مدات میں ریوینیوحاصل ہوتا ہے۔اوقات کار کی پاپندیوں سے بے روزگاری اور اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ان پاپندیوں سے رات کا کاروبار تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بھی بزنس کمیونٹی پریشان ہے۔

وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ توانائی کے بحران حل کرنے کے لیے متبادل زرائع سے بجلی کے حصول کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے۔تاجروں کی مشاورت سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کے لیے پلان بنایا جائے۔کنونشن میں کراچی کی تمام مارکیٹس کے عہدیداران سماجی و سیاسی شخصیات وکلا برادری فنکار و دیگر شعبہ یا زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں