سویڈن کی نیٹو کی رکنیت کے کے بارے میں صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائریکٹر فخر الدین آلتون نے کہا ہے کہ سویڈش ہتھیار دہشت گردوں کے بنکروں سے نہیں نکلیں گے کے بارے میں ہمیں یقین دہانی کروانے کی ضرورت ہے ۔
آلتون نے نیٹو کی رکنیت کے لیے سویڈن کی درخواست کے حوالے سے سویڈن کے معروف اخبارات Svenska Dagbladet کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کی رکنیت کے لیے سویڈن کی درخواست سے دو حقائق سامنے آتے ہیں۔
آلتون نے کہا کہ سب سے پہلے انہوں نے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے سویڈن کس قدر مضبوط ہونے کا مشاہدہ کیا ہے تنظیم کے ارکان پارلیمنٹ میں نشستوں کی وجہ سے سویڈن حکومت کو بلیک میل کرنے اور سارا وقت تنظیم کے لیے فائدہ اٹھانے میں خرچ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی نے روایتی طور پر نیٹو کی کھلے دروازے کی پالیسی کی حمایت کی ہے۔ آلتون نے اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے دہشت گردی پر کوئی رعایت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سویڈن کو نیٹو میں شامل ہونے کے لیے کچھ معیارات پر پورا اترنا چاہیے، آلتون نے کہا کہ نیٹو خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو میں سویڈن کے داخلے کی اجازت دینے کا مطلب حملے کی صورت میں آرٹیکل 5 کے تحت سویڈن کے لوگوں کی حفاظت کا بیڑہ اٹھانا ہے سویڈن کے لیے اس قسم کی ذمہ داری اٹھانے کا مطلب ، سویڈن میں جمع ہونے والی رقم سے ترک باشندوں کو حمملوں کا نشانہ نہ بنائے جانے ، شام یا عراق کی پناہ گاہوں سے سویڈش ہتھیار برآمد نہ ہونے سے متعلق ہمیں قطعی طور پر یقین دہانی کروانے کی ضرورت ہے ۔