سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو سہولت کی پیشکش نواز شریف کی واپسی کے لیے ہے۔ رانا ثناء اللہ نئے آرمی چیف کی تاریخ کس حیثیت میں دے رہے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 2 ماہ کی امپورٹ سے بھی کم ہیں۔ غریب مہنگائی سے مر گیا لیکن آئی ایم ایف کا حکم نامہ نہیں آیا۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پٹرول پر 50 روپے لیوی غریب کو مار دے گی۔ جولائی میں بجلی، سردیوں میں گیس نہیں ملے گی۔ ملک افواہوں کی زد میں ہے۔ جولائی میں بجلی، گیس کے بل آئیں گے تو قیامت ڈھائیں گے۔
زرمبادلہ کے ذخائر 2 ماہ کی امپورٹ سے بھی کم ہیں۔غریب مہنگائی سے مرگیا،IMF کاحکم نامہ نہیں آیا۔پٹرول پر50 روپے لیوی غریب کو ماردے گی۔جولائی میں بجلی،سردیوں میں گیس نہیں ملےگی۔مشرف کوسہولت کی پیشکش نوازشریف کی واپسی کے لیے ہے۔رانا ثنااللہ نئے آرمی چیف کی تاریخ کس حیثیت میں دےرہےہیں
— Sheikh Rashid Ahmed (@ShkhRasheed) June 24, 2022
ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی سے ووٹ کا حق چھیننا اور نیب قوانین میں اپنے کیسز کے لیے ترمیم کرنا قومی جرم ہے۔ کرپٹ اور چور ملزموں اور مجرموں کو مسلط کر دیا گیا ہے۔ ہر شخص موبائل فون پر ہے، اس کی رائے کا احترام لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرف کا پاکستان آنے سے انکار نواز شریف کی پاکستان آنے کی رکاوٹ بن گیا ہے۔ معاون خصوصی کا جمعہ بازار لگا ہے۔ ابھی اصلی بجٹ آنا ہے تو پھر لگ پتا جانا ہے۔
سابق وزیر نے کہا کہ معیشت وینٹی لیٹر پر اور سیاسی نظام ICU میں ہے۔ سامراجی اعلامیے کے غلط اندازے نے ن لیگ کی سیاست، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے وقار کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ اکتوبر میں حل ہو جانا چاہیے : رانا ثنااللہ وفاقی وزیر داخلہ@RanaSanaullahPK @PresPMLNPunjab
مکمل پروگرام کے لئے لنک دیکھیںhttps://t.co/0qfPYUYqyA#NadeemMalikLive #Pakistan #SamaaTv pic.twitter.com/3W31lSXG8b
— NADEEM MALIK LIVE (@NadeemMalikLive) June 23, 2022
خیال رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ اکتوبر میں حل ہو جانا چاہیے جبکہ عمران خان کی جان کو خطرے کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ بابر اعوان اور فیاض الحسن چوہان کے دعوؤں کو چیک کروایا لیکن تمام جھوٹے ثابت ہوئے۔ عمران خان کو اس وقت وہی سیکورٹی حاصل ہے جو انہیں بطور وزیراعظم تھی۔