لاہور: عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی پانچ مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیش نہ کرنے کے خلاف درخواستوں پرسماعت ہوئی ہے۔
علی ظفر ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ الیکشن لا کے تحت خالی مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کی خواتین ہی منتخب ہوسکتی ہیں۔ ان سیٹوں پر پی ٹی آئی کی خواتین کی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔
پی پی آئی کے مطابق پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیے کہ عدالت الیکشن کمیشن کو ممبران پنجاب اسمبلی کی تقریروں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کو حکم دے۔
عدالت میں درخواستوں پروفاقی اور پنجاب حکومت نے جواب داخل کرایا جس میں کہا گیا کہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔بیرسٹرعلی ظفر نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ 20 سیٹیں خالی ہوئی ہیں. اس لیے پارٹیوں کی کل نشستیں بھی بدلی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا یہ مؤقف قانون کے مطابق نہیں ہے۔
وکیل پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے بعد الیکشن کمیشن ان نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا پابند ہے۔ جنرل سیٹ کے تناسب سے خواتین اور اقلیتی ارکان کا اس کی جماعت کی دی گئی فہرست کے مطابق نوٹیفکیشن کیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی فہرست بدل نہیں سکتی۔
عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوے معاونت کے لیے طلب کیا تھا۔حکومت پنجاب اورالیکشن کمیشن کے وکیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا تھا۔جسٹس شاہد وحید نے پی ٹی آئی کی ایم پی اے زینب عمیر کی درخواستوں پر سماعت کی ہے۔
درخواست گزاروں کی طرف سے علی ظفراورالیکشن کمیشن کی جانب سے حارث عظمت اون لیگ کی طرف سے خالد اسحاق ایڈووکیٹس پیش ہوئے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت پیش عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔