وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جون کے آخری ہفتے کے دوران کوروناکیسز میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے اور عیدالاضحیٰ، بلدیاتی انتخابات اور محرم جیسے بڑے ایونٹس کی آمد سے قبل اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر حکومت کے پاس کچھ سخت فیصلے لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس صورتحال کو آسانی سے ماسک پہننے، مصافحہ سے گریز، سماجی دوری کو یقینی بنانے اور رضاکارانہ طور پر ہاتھ دھونے جیسے کورونا ایس او پیز کو اپنانے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، انہوں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس طلب کر رکھا تھا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ناصر شاہ، شرجیل میمن (ویڈیو لنک پر)، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، پارلیمانی سیکرٹری صحت قاسم سومرو، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی، سیکریٹری داخلہ سعید منگنیجو، کمشنر کراچی اقبال میمن، ڈاکٹر باری، ڈاکٹر قیصر سجاد، ورلڈ بینک کی ڈاکٹر سارہ خان، وی سی ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر سعید قریشی، ڈپٹی ڈی جی رینجرز بریگیڈیئر رؤف شہزاد، کور ہیڈ کوارٹر اور انٹیلی جنس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ 17 جون کو صوبے میں صرف 38 کیسز تھے جن کا تشخیصی تناسب 3.6 فیصد تھا اور اگلے روز 18 جون کو کیسز کی تعداد بڑھ کر 122 ہوگئی۔ اس میں 30 جون تک رپورٹ ہونے والے کیسز 377، 531 اور 465 سے بڑھتے چلے گئے۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صورتحال خطرناک نہیں بلکہ تشویشناک ضرور ہے، ہمیں بڑے پیمانے پر آگاہی کے ذریعے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے (24-30 جون 2022) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی میں 30 جون کو سب سے زیادہ 19.76 فیصد کیسز، 29 جون کو 19.09 فیصد، 28 جون کو 19.24 فیصد، 27 جون کو 9.21 فیصد، 26 جون کو 22.65 فیصد ، 25 جون کو 21.71 فیصد اور 24 جون کو 19.65 فیصد کیسز کا تناسب ہے۔اسی مدت کے دوران حیدرآباد میں 24 جون کو 11.54 فیصد، 25 جون کو 8.51 فیصد، 26 جون کو 0.32 فیصد، 27 کو 0.29 فیصد، 28 جون کو 1.09 فیصد، 29 جون کو 0.15 فیصد اور 30 جون کو 0.39 فیصد کیسز سامنے آئے۔اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مذکورہ ہفتے کے دوران کراچی میں کیسز کی شرح میں 19 سے 21 فیصد کے درمیان اضافہ ہوا جبکہ حیدرآباد میں کیسز کے رجحان میں کمی دیکھی گئی۔ کراچی میں کورونا کیسز کی ہفتہ وار اوسط 17.47 فیصد، حیدرآباد میں 1.01 فیصد اور صوبے کے باقی حصوں میں 1.05 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ،اس طرح مذکورہ ہفتے کے دوران صوبائی اوسط تناسب 7.66 فیصد رہا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ گزشتہ 30 دنوں کے دوران 6 اموات ہوئیں جن میں سے 5 وینٹی لیٹرز پر اور ایک ہسپتالوں میں آف وینٹ پر تھی۔ مئی میں صوبے میں چار اموات ہوئیں۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اس وقت 4122 مریضوں میں سے صرف 63 ہسپتالوں میں ہیں جن میں سے 47 کی حالت تشویشناک ہے اورصرف چار مریضوں کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہسپتالوں پر دباؤ نہیں ہے۔ماہرین اور ٹاسک فورس کے ارکان کے مشورے پر وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ویکسین لگوائیں اور اگر وہ پہلے ہی ویکسین کر چکے ہیں تو انہیں بوسٹر شاٹس ضرور لگوائیں۔ انہوں نے کہا میں آپ (صوبے کے لوگوں) سے ماسک پہننے، سماجی دوری کو یقینی بنانے اور اپنے ہاتھ دھونے یا سینی ٹائز کرنے اور مصافحہ کرنے سے گریز کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور اگر ان ایس او پیز کو رضاکارانہ طور پر اپنایا گیا تو صوبائی حکومت صورتحال پر قابو پا سکے گی بصورت دیگر سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔