کراچی:عید قرباں ایک ہفتے کی دوری پر ہے، عام طور پر آخری ہفتے میں مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خرید و فروخت تیزی سے بڑھنی شروع ہوجاتی ہے تاہم اس بار عید الاضحی سے قبل کا آخری ہفتہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں قدرے مختلف ہے، کیونکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے کراچی میں 5جولائی تک بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ اس کے بعد بھی عید قربان تک وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق بارش ہوئی تو شہر کی صورتحال اور جانوروں کی خرید و فروخت کے رجحانات کافی الگ ہوسکتے ہیں۔
بیوپاریوں سے حاصل معلومات کے مطابق بارشیں تو پچھلے سالوں میں بھی ہوتی رہی ہیں لیکن عید سے پہلے ایک دو دن مل جاتے تھے یا کچھ لوگ ایک ہفتہ پہلے جانور خرید لیتے تھے لیکن اس بار عید سے عین پہلے بارشوں کا سلسلہ شروع ہورہا ہے، پھر اس سے بڑھ کر ایک مسئلہ درپیش ہے کہ امسال جانوروں میں لمپی اسکن کی بیماری بھی پھیل رہی ہے، جس کی وجہ سے بھی احتیاط برت رہے ہیں اور وہ جانور کے بیمار پڑجانے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے، جس کی وجہ سے پہلے سے خریداری کا رجحان پچھلے سالوں سے کم ہے، اس کے علاوہ مہنگائی بھی پچھلے سالوں سے زیادہ ہے، جس سے جانوروں کی خرید و فروخت متاثر ہورہی ہے۔
دہلی کالونی کے رہائشی بیوپاری محمد ابراہیم نے بتایاکہ اس وقت جو ملک میں مہنگائی کی عمومی صورتحال ہے، اس کی وجہ سے شہریوں کی خریدنے کی طاقت کم ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے وہ قیمتیں کم ہونے کے انتظار میں ہیں۔
ابراہیم کے مطابق رواں سال منڈیوں میں صورتحال کافی مختلف ہے، ہفتے تک خریدار نہ ہونے کے برابر تھے، آگے کیا ہوگا؟ بیوپاریوں میں پریشانی بڑھ رہی ہے۔دوسری جانب شہریوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں؟،
کورنگی کے رہائشی صلاح الدین نے بتایاکہ جمعہ کو بھائی کے ساتھ منڈی گیا تھا لیکن قیمتیں بہت زیادہ ہیں، دیکھیں ہوسکتا ہے آگے جاکر کچھ نرخ کم ہوں۔صلاح الدین کے مطابق متوقع بارشوں سے قیمتیں کم ہوسکتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بارش میں جانور خریدکر لانا بھی تو آسان نہیں اور اگر پہلے جانور خریدتے ہیں تو اسے رکھنے کیلئے جگہ نہیں۔
سپر ہائی وے مویشی منڈی منتظمین کے مطابق ہفتے تک منڈی میں 4 لاکھ جانور لائے جاچکے ہیں، ہماری توقعات عید تک 4 لاکھ جانوروں کی تھیں لیکن عید سے پہلے ہی اتنی تعداد میں جانور آچکے ہیں، امید ہے 50 ہزار کے قریب جانور مزید بھی آجائیں گے۔
منڈی انتظامیہ میں شامل آصف علی کے مطابق پچھلے سالوں میں بارشیں ہوتی رہی ہیں اس لئے پوری تیاری ہے، سیوریج، نکاسی آب اور لائٹنگ کا پورا انتظام ہے۔جانوروں کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ عید سے دو ہفتے قبل کے جو ریٹ ہوتے ہیں بعد میں وہ کم ہونے لگتے ہیں کیونکہ بیوپاریوں کو بھی جانور بیچ کر اپنے علاقوں میں جانا ہوتا ہے، بارش کا دبا جتنا بیوپاریوں پر ہوتا ہے اتنا گاہکوں پر بھی ہوتا ہے۔
بیوپاریوں کے مطابق قیمتوں میں کمی ہوگی لیکن بہت زیادہ کا امکان نہیں۔ ہفتے کو ایک محتاط اندازے کے مطابق جو اوسط نرخ تھے وہ پچھلے سال سے 20 تا 25 فیصد زیادہ تھے، اگلے دنوں میں نرخوں میں اس حساب سے زیادہ سے زیادہ 10 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب سپر ہائی وے مویشی منڈی میں اونٹوں کی فروخت بھی جاری ہے، یہ مویشی منڈی صرف ایشیا کی سب سے بڑی منڈی ہی نہیں مہنگی بھی ہے جہاں اس سال گاہکوں نے جانوروں کی قیمتیں سن کر کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔
مویشی منڈی میں موجود اونٹ 5 سے 12 لاکھ روپے میں دستیاب ہیں۔ بیوپاریوں کے مطابق اس وقت 1000 اونٹ مویشی منڈی میں موجود ہیں۔