سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ہراسانی کا شکار خاتون طیبہ گل نے انکشاف کیا ہے کہ مجھے اور میرے شوہر کو سابق حکومت کے دور میں 45 دن تک وزیراعظم ہائوس میں قید رکھا گیا۔
جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں سنسنی خیز انٹرویو دیتے ہوئے طیبہ گل کا کہنا تھا کہ سابق جسٹس جاوید اقبال نے مجھے اپنے ڈیفنس لاہور میں واقع فلیٹ پر بلایا، لیکن میں نے آنے سے انکار کیا تو اگلے ہی دن سے میرے خلاف کارروائی شروع ہوگئی۔
طیبہ گل کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کرکے کہا کہ آپ مدینے کی ریاست میں ہیں ، انصاف ملے گا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ میری ویڈیوز کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے اپوزیشن کو بلیک میل کیا اور اپنے کیس بند کرائے۔
The woman accused that during Imran khan PMship she and her husband was kept as prisoners in the PM House for 75 days !The allegation is brutal and must be investigated pic.twitter.com/oM372g5Wu7
— Kamran Shahid (@FrontlineKamran) July 7, 2022
انہوں نے انکشاف کیا کہ مجھے اور میرے شوہر کو ڈیڑھ مہینہ وزیراعظم ہائوس میں رکھا گیا۔ ہمارے موبائل لے لیے گئے۔ میری ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کا کوئی رہنما گرفتار نہیں ہوا اور کیسز بند ہو گئے۔
اینکر کامران شاہد نے اس اہم معاملے پر بات کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران انہیں اور ان کے شوہر کو 45 دن تک وزیراعظم ہاؤس میں قید رکھا گیا، یہ الزام سفاکانہ ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیں۔
A story of shame #NAB pic.twitter.com/0Yym1dR8Jc
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) July 7, 2022
خاتون نے مزید کہا کہ میں نے سابق چیئرمین نیب کی ویڈیوز کبھی کسی کو دینے کا نہیں سوچا تھا۔ حتیٰ کے ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے مجھے اور میرے شوہر کو آفر کی کہ آپ میرے ساتھ پریس کانفرنس کریں اور ان ویڈیوز کو میڈیا کے سامنے لے آئیں لیکن ان کو بھی ہم نے صاف انکار کر دیا تھا۔ جب کہیں سے شنوائی نہیں ہوئی تو ہم نے سٹیزن پورٹل کا سہارا لیا اور ان ویڈیوز کو وہاں اپ لوڈ کر دیا۔ لیکن اس کا جو نتیجہ نکلا وہ بھی اب سب کے سامنے ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل طیبہ گل پبلک اکائونٹس کمیٹی کے روبرو پیش ہوئیں اور حکام کو بتایا کہ میرے خلاف جھوٹا ریفرنس بنایا گیا۔ مسنگ پرسن کمیشن میں سابق نیب چیئرمی جاوید اقبال سے ملاقات ہوئی۔ جب میں نے جاوید اقبال کو بار بار فون کرنے سے منع کیا تو وہ ناراض ہوگئے۔ مسنگ پرسن کی درخواست پر میرا نمبر درج تھا۔ اس پر کال کرکے مجھے وقتاً فوقتاً بلاتے رہے۔ وہ کہتے تھے آپ ضرور آئیں اگر ایسا نہ کیا تو سماعت نہیں ہوگی۔
خاتون نے کہا کہ میں نے جاوید اقبال کی گفتگو کی ویڈیو اس لئے بنائی کہ وہ ایک اعلیٰ طاقتور عہدیدار تھا۔ میں چاہتی تھی کہ اس شخص کی حقیقت سب کے سامنے آئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسنگ پرسن کمیشن میں جاوید اقبال کا پرسنل سٹاف افسر راشد وانی اس کا سہولت کار ہے۔ آج تک میری کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی جبکہ کسی عدالت نے میری بات نہیں سنی۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے مجھے اور میرے شوہر کو گرفتار کروادیا۔ مجھے مرد اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ گاڑی میں میرے ساتھ جو درندگی کی گئی، وہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ مجھے ٹرانزٹ ریمانڈ کے بغیر لاہور لے جایا گیا۔ مجھے سلیم شہزاد کے پاس لے جایا گیا تو میرے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ میرے جسم پر نیل پڑے ہوئے تھے۔ تلاشی میں ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کے کہنے پر میرے کپڑے تک اتار دیے گئے۔