سندھ میں افغانی پٹھانوں کے معاملات پر قوم پرست رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی نے سندھ بھر میں گو افغانی گو مہم چلانے کا اعلان
کردیا ہے، سکھر پریس کلب میں نیوز کانفرنس میں رواداری تحریک کے رہنما پنہل ساریو، غلام مصطفٰی پھلپوٹو و دیگر بھی
موجود تھے.
ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا تمام سندھی افغانیوں کے کاروبار کا بائیکاٹ کریں، وہ خود بھی بائیکاٹ کریں اور دیگر سندھیوں کو بھی
بائیکاٹ کرنے پر قائل کریں.افغانی اپنے وطن کو واپس چلے جائیں، سندھ حکومت انہیں واپس بھیجنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے،
جو افغانی پٹھان 100 سالوں سے سندھ میں رہائش پذیر ہیں وہ بھی خود کو واضح کریں اور سندھ کی روایات کی پاسداری کریں.
ڈاکٹر نیاز کالانی کا کہنا تھا کہ کوئی سندھی فساد نہیں چاہتا، ہمارے کارکنان پرامن ہیں، دہشت گردی تو سھراب گوٹھ میں افغانی غنڈوں
نے کی ہے. گاڑیوں کے شیشے توڑے اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، سندھ میں لسانیت کو ہوا دی جا رہی ہے، سندھ دھرتی کے رہائشیوں
کو بے گناہ مارا جا رہا ہے.
ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا سپریم کورٹ بھی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا حکم دے چکی ہے لیکن سندھ حکومت افغان مہاجرین کو
سندھ بدر کرنے کو تیار نہیں، سہراب گوٹھ اور دیگر علاقوں میں ہر آئے روز افغان دہشتگرد غنڈہ گردی کرتے ہیں، چند روز قبل برتن
صاف نہ ہونے کی شکایت پر حیدرآباد میں بے گناہ بلاول کاکا کو قتل کیا گیا، پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے کے بجائے بلال کاکا کو
کرمنل ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، کیا سندھ پولیس نے روپوش لوگوں کو مارنے کا ٹھیکہ افغانی پٹھانوں کو دیا ہوا ہے.
انہوں نے کہا ہم اپنے کارکنوں کو انتشار کے بجائے امن احتجاج کی اپیل کرتے ہیں، وہ صرف افغان مہاجرین کے ہوٹلز اور دوکانوں
سے خریداری بند کریں، سوشل بائیکاٹ کرنے سے ہی افغان مہاجرین اپنے علاقوں میں جا سکتے ہیں. ہم جلد گو افغانی گو تحریک
شروع کرنے والے ہیں، جس کا بہت جلد آغاز ہوگا. سندھ حکومت افغانیوں کے معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے وہ افغانی
دہشتگردوں کی سہولتکار والا کردار ادا کر رہی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانی مہاجر سندھ کی دھرتی سے نکل جائیں، دھمکیاں
دینے والے افغانیوں سے ہم نہیں ڈرتے، بلوچستان میں سندھی مسافروں کو گاڑیوں سے اتارا گیا ہے، وہ شرپسندی کی جا رہی ہے،
ایک بلاول کاکا کے بے گناہ قتل پر پورا سندھ جل اٹھا ہے، اگر وہاں کسی سندھی کو کچھ ہوتا ہے تو پھر یہاں جو صورتحال ہوگی
اس کی ذمہ داری پھر ہم پر نہیں ہوگی، اب بھی سندھی خود نکلے ہیں کسی پارٹی نے کوئی کال نہیں دی.
انہوں نے کہا کہ افغانیوں کی دھمکی پر بلوچستان کے رہنماؤں نے سندھی مسافروں کو بلوچستان میں اپنی ٹرانسپورٹ دینے کی
پیشکش کی ہے، ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ سندھ نے حکمرانوں کا بڑا ظلم ہے، دیگر صوبوں میں سندھ کا کوئی ایڈوائزر مقرر
نہیں ہوتا، لیکن سندھ حکومت میں افغانی ایڈوائزر بیٹھے ہوئے ہیں، سندھ میں دیگر صوبوں سے لاکر سینیٹرز بنائے جاتے ہیں.