سری لنکا میں، جو اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، 60 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا کہ سری لنکا کی 28 فیصد سے زیادہ آبادی (6.3 ملین) غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، اور یہ کہ بحران جاری رہنے کے ساتھ ہی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔
اس موضوع پر ڈبلیو ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان میں سے کم از کم 65,600 افراد کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور 5.3 ملین کو اپنی خوراک کم کرنی پڑرہی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق 2022 میں 3.4 ملین افراد تک پہنچنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کیا ہے اور امداد فراہم کرنے کے لیے ڈبلیو ایف پی کو فوری طور پر 63 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔
سری لنکا جہاں غذائی افراط زر کی شرح میں 80 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے پانچ میں سے تقریباً دو گھرانوں کی آمدنی گزشتہ تین ماہ کے دوران نصف رہ گئی۔