ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مذہب کارڈ کامیابی کا ضامن بنے گا؟

آج کے دن پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن بھی اس وقت سیاسی جماعتوں کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے جنرل الیکشن۔ یاد رہے کہ پچھلے چند ماہ میں پاکستان کی سیاست میں خاصی تبدلیاں دیکھنے میں آئی ہے۔ جس کے بعد سیاست سے جڑا ہر شخص یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ابھی لوگوں میں ان کی مقبولیت دوسری جماعت یا شخص سے زیادہ ہے۔
اس لیے پنجاب کی سیاست میں اس وقت کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ان ضمنی انتخابات کے لیے خاصہ زور لگا رہی ہیں۔یہ زور کئی حلقوں میں بریانی کے ڈبوں سے بڑھ کر موٹر سائیکلوں تک جا پہنچا ہے۔گذشتہ روز ملتان سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے زین قریشی کے حوالے سے کچھ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ انھوں نے دس ووٹوں کے بدلے ایک موٹر سائیکل کا اعلان کیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن پنجاب نے بتایا کہ حالیہ ضمنی الیکشن میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک حلقے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی جانب سے نقد رقموں دینے کا اعلان کیا گیا اور وہ ویڈیو بھی ہم تک پہنچی تھی جس پر انھیں بلا کر نوٹس اور وارنگ دی گئی ہے۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت بات نوٹوں اور موٹرسائیکلوں سے بھی آگے نکل چکی ہے اور پاکستان تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات میں بھی مذہبی کارڈ کا استعمال شروع کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کے امیدوار مہم چلا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینا جہاد اور ووٹ دے کر آپ جنت میں جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر وائرل فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 کا الیکشن پوسٹر جسے سینئر صحافی وسعت اللہ نے بھی شیئر کیا ہے جس پر لکھا ہے کہ "جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے”۔پوسٹر پر مزید لکھا ہے کہ "بلے پر مہر لگا کر جہاد میں حصہ لیں اور جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کریں۔
مذہب کارڈ اس دنیا میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کا بہترین ہتھیار رہا ہے۔ ہم دور نہیں جاتے، برصغیر کی ہی مثال لے لیں۔ مغلوں نے برصغیر پر ایک لمبے عرصے تک حکومت کی۔ اور عوام کو ناظرہ پڑھنے، جنت میں جانے اور جہنم سے بچاؤ کے چند وظائف اور نیم ملاؤں کے حوالے کر کے تعلیم کی اصل روح سے دور رکھ کر عوام کو جاہل رکھا اور لمبے عرصے تک برصغیر پر حکومت کرتے رہے۔ انگریز نے بھی برصغیر پر حکومت کرنے کے لیے بالواسطہ مذہبی کارڈ کھیلا اور لوگوں کو تقسیم کر کے اپنے دور حکومت کو طوالت دی۔ ہمارے ہاں اسی کی دہائی میں ایک مطلق العنان حکمران نے اپنے دور حکومت کو طوالت دینے کے لیے مذہبی کارڈ خوب کھیلا۔ پھر بعد میں آنے والے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا بھی یہی وتیرہ رہا۔ وہ بھی وقتاً فوقتاً مذہب کا سہارا لیتے رہے۔
پاکستان کی سیاست میں اکثر سیاستدان مذہب سے اپنی گہری وابستگی کی تشہیر کرتے رہتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک پاکستانی سیاست میں مذہب کا انتہائی اہم کردار رہا ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ووٹروں کے لیے اپنے رہنماؤں کے مذہبی عقائد ان کی حکومتی کارکردگی سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
پروفیسر رسول بخش کے مطابق سنہ 1948 میں قراردادِ مقاصد کے وقت سے مذہب کارڈ استعمال کرنے کی شروعات ہوئی اور یہ تب سے آج تک جاری ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ اُس وقت لیاقت علی خان سمیت قائدِ اعظم کے ساتھ مل کر جن رہنماؤں نے پاکستان قائم کیا تھا، وہ علما کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ علما کا اثرورسوخِ بہت زیادہ تھا اور یہ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔
ایوب خان نے علما کے اثرو رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ انھوں نے آئین کے پہلے ڈرافٹ میں ملک کا نام ’ریپبلک آف پاکستان‘ لکھا تھا۔ پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ اس پر اتنا ہنگامہ مچا کہ ایوب خان کو اسے تبدیل کرکے ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کرنا پڑا۔یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔اس کے بعد سنہ 1970 کے الیکشن میں جب یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک (ایل ایف او) نافذ کیا جس میں کہا گیا کہ کوئی سیاسی جماعت اسلامک آئیڈیالوجی کے خلاف کوئی کام نہیں کرے گی، کوئی احکامات جاری نہیں کرے گی ورنہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گی۔
اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو آئے۔ وہ کہتے تھے کہ ’میں اسلام، سوشلازم اور ڈیموکریسی چاہتا ہوں۔۔۔‘پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’سنہ 1973 میں بھٹو نے قانون میں ترمیم کی اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔‘پھر اس کے بعد سنہ 1977 میں ان کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک چلی جس میں پیپلز پارٹی کے علاوہ سیکولر، ریجنل، مین سٹریم کی نو پارٹیاں شامل تھیں۔
اس تحریک میں بھٹو کے خلاف جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی اور انھوں نے اسے ’نظامِ مصطفیٰ تحریک‘ کا نام دیا تھا۔اور اسی کے اثرات کم کرنے کے لیے بھٹو نے ’اسلامآئزیشن‘ کا پیکج متعارف کروایا جس میں جمعہ کے دن کو چھٹی کا دن قرار دیا، ریس کورس سے نائٹ کلبوں تک سب بند کروا دیے، شراب کو حرام قرار دے دیا۔بھٹو کے بعد ضیا کا دور آیا جن کا کہنا تھا کہ ’میں نے تو نظامِ مصطفیٰ کی تحریکِ میں جو مطالبات تھے انھیں پورا کرنا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں مذہب کارڈ اتنا مؤثر کیوں ہے؟ اس حوالے سے پروفیسر رسول بخش رئیس کا ماننا ہے کہ اصل میں مذہب کارڈ کا استعمال ایک دوسرے کے خلاف نہیں، بلکہ ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے ہے کہ ہم کس طرح خود کو زیادہ مذہبی ظاہر کر سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کا ایک بڑا ووٹ بینک ہے اور اسی ووٹ بینک کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے سیاست میں مذہب کارڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
وہ سابق وزیِراعظم عمران خان کی بنائی گئی رحمت للعالمین اتھارٹی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس وقت عمران خان کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے انھوں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں بنا رہے ہیں تو عمران خان کا جواب تھا ’دیکھیں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے پاس کتنے لاکھوں کا ووٹ بینک ہے، ہم اس ووٹ بینک کو کیپچر (اپنی طرف راغب) کرنا چاہتے ہیں۔‘ ’اکثر اوقات مذہبی رجحان رکھنے والے افراد نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے پاس وسائل کی بھی کمی ہوتی ہے اور سیاستدان ان کے مذہبی رجحان کا فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کا کارڈ ہمیشہ سے مستند کارڈ رہا ہے۔
اتوار، 17 جولائی 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

 

ا

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں