ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خیبرپختونخوا حکومت کا پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

 خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گرین خیبر پختونخوا اقدام کے تحت تمام خصوصی اقتصادی زونز کوبھی سولرائزکیا جائیگا،بنوں، جلوزئی اور کرک اکنامک زونز میں 10 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے پلانٹس لگائے جائیں گے۔

ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ٹرانسپورٹ کے موجودہ پبلک اور پرائیویٹ نظام کو کم خرچ، ماحول دوست اور شمسی توانائی سے چلنے والے برقی نقل و حمل کے نظام میں تبدیل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

 خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے ایک اہلکار نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ حکومت ایک سستی، ماحول دوست، اور شمسی توانائی سے چلنے والے برقی نقل و حمل کے نظام کو نافذ کرنے کی خواہشمند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس منصوبے پر کامیابی سے عمل کیا گیا تو یہ خیبر پختونخوا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا، یہ منصوبہ نہ صرف کاربن کے اثرات کو کم کرے گا بلکہ خام تیل کی بھاری درآمدات کو بھی کم کرے گا۔ اس منصوبے کو تین مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا۔

 انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے پبلک ٹرانسپورٹ کی سولر پر منتقلی پر توجہ مرکوز کی جائے گی جس کے بعد ای ٹیکسی سروس کا آغاز کیا جائے گا اور پھر نجی گاڑیوں پر توجہ دی جائے گی۔

اس منصوبے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر اس سال کے شروع میں دبئی ایکسپو کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔اس سے قبل خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی جو کہ خیبر پختونخوا حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے نے بھی اعلان کیا تھا کہ کمپنی گرین خیبر پختونخوا اقدام کے تحت تمام خصوصی اقتصادی زونز کو سولرائز کرنے جا رہی ہے۔

ویلتھ پاک کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی پہلے مرحلے میں تین اقتصادی زونز میں 10 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے پلانٹس لگائے گی۔ یہ پلانٹس بنوں، جلوزئی اور کرک اکنامک زونز میں لگائے جائیں گے۔ سولر پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی ان زونز میں کام کرنے والے اداروں کو فراہم کی جائے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں