کراچی:جسٹس ہیلپ لائن کے صدر ندیم شیخ ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سندھ کی جیلوں میں 16 ہزار سے زائد قیدی ہیں۔
جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔جو قیدی معمولی کیس میں بند ہیں یا اپنی سزا پوری کر چکے ہیں لیکن ضامن نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں ان کو رعایت دی جائے۔
جو قیدی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں لیکن جرمانہ دینے کے قابل نہیں ان کا جرمانہ حکومت ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہر قیدی، اس کا جرم، قیدی کی عمر، جیل میں آنے کی تاریخ، انڈر ٹرائل ہے یا کونوکٹیڈ ہے اور قیدی کی صحت کے حوالے سے مرتب کی جائے، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی جیل سے جسٹس ہیلپ لائن کی درخواست کرتے ہوئے ندیم شیخ ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ جیل میں بہتریں صحت کی خدمات دینے کی بھی ہدایت اوراس سلسلے میں سندھ کی جیلوں کا دورہ کریں۔
قیدیوں کو صفائی ستھرائی سے رہنے کی ہدایت دیں اورقیدیوں کو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر رکھیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے جیلوں اور قیدیوںکے متعلق اقدامات پر عملدرآمدکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔