وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ وہ یمن کے ساتھ جلد سے جلد قونصل خانے کے بارے میں مشاورت کرنا چاہتے ہیں۔
میولود چاوش اولو نے ان خیالات کا اظہار دارالحکومت انقرہ میں اپنے یمنی ہم منصب احمد عواد بن مبارک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چاوش اولو نے کہا کہ یمن، ترکیہ اور ترک عوام کے لیے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن میں انسانی بحران سنگین جہت پر پہنچ چکا ہے۔نصف سے زیادہ یمنی عوام کو خوراک کے بحران کا سامنا ہے۔ ہم ان مشکل دنوں میں یمن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے یوکرین سے 37 ہزار اناجحاصل کرتے ہوئَ اسے پیس کر آٹے کی شکل میّں یمن روانہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ یمنی نوجوانوں کو ترکیہ کی جانب سے وظائف دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چاوش اولو نے کہا کہ اس سال، ہم نے 79 طالب علموں کو اسکالرشپ دی. ترکیہ میں 7 ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔ صرف سفارت کاروں کی تربیت کافی نہیں، یمن کی سلامتی اہم ہے۔ ہمارا جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی یمنی پولیس کے لیے اپنی تربیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یمن میں استحکام قائم ہونے پر ہم اپنی امداد میں اضافہ جاری رکھیں گے۔
چاووش اولو نے کہا کہ وہ یمن کے ساتھ جلد سے جلد قونصلخانے کے بارے میں مشاورت کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب، چاوش اولو نے طالبان انتظامیہ کے افغانستان میں طالبات کی یونیورسٹی کی تعلیم معطل کرنے کے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ طالبات کے لیے تعلیم پر پابندی نے ہمیں بہت دکھ پہنچایا ہے۔ یہ پابندی اسلامی نہیں بلکہ انسانی بھی ہے۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم طالبان سے اس فیصلے کو کو منسوخ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم اپنے افغان بھائیوں کو تعلیم اور اسکالرشپ کی فراہمی جاری رکھیں گے۔