لاہور: مسلم لیگ ق کے رہنما اور وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا، جس پر عدالت نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔
یہ خبر بھی پڑھیں: گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیا، کابینہ بھی تحلیل
چودھری پرویز الہی کی جانب سے 9 صفحات پر مشتمل درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائرکی گئی، جس میں گورنر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان، حکومت پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر نے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے وزیراعلیٰ کو خط لکھا ہی نہیں، خط اسپیکر کو لکھا گیا، وزیراعلی کو نہیں ۔
ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک اجلاس کے دوران گورنر دوسرا اجلاس طلب نہیں کر سکتے۔ گورنر کو اختیار ہی نہیں کہ وہ غیر آینی طور پر وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرویز الہیٰ سبکدوشی: پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
پرویز الٰہی کی جانب سے پٹیشن آئین کےآرٹیکل 199کےتحت دائر کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب نے آئین کےآرٹیکل 130سب سیکشن 7کی غلط تشریح کی۔ گورنر پنجاب نے اختیارات کاغلط استعمال کرتے ہوئے وزیراعلی کو ڈی نوٹیفائی کیا۔
پٹیشن کے مطابق گورنر ،وزیراعلیٰ کو تعینات کرنے کی اتھارٹی نہیں، اسی لیے وزیراعلی کو ہٹانے کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ گورنر نے اسپیکر کےساتھ تنازع میں وزیراعلیٰ کو غیرقانونی طور پرہٹایا۔ جب تک اسپیکر اعتماد کےووٹ کے لیے اجلاس نہیں بلاتا تو بطور وزیر اعلیٰ کیسے اعتماد کا ووٹ حاصل کرتا۔۔
مزید پڑھیں: پرویز الہیٰ ڈی نوٹیفائی، پی ٹی آئی کا گورنر پنجاب کو ہٹانے کیلیے صدر کو خط لکھنے کا اعلان
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت گورنر پنجاب کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے۔
عدالت عالیہ میں درخواست پرویز الہی کے وکیل عامر سعید راں کی وساطت سے دائر کردی گئی ہے۔ وکلا کی استدعا پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کے لیے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیدیا، جو آج ہی درخواست پر سماعت کرے گا۔ الرجر بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس چودھری محمد اقبال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس مزمل اختر شبیر شامل ہیں۔