فرانس میں صحت کے شعبے کے بحران کی وجہ سے ملازمین اور مریض دونوں مشکل صورتِ حال سے دوچار ہیں۔
نئی قسم کے کورونا وائرس (کوویڈ 19) کے بعد، فلو اور برونکائیلائٹس کے پھیلنے کے باعث ہسپتالوں میں رش لگا ہوا ہے۔جس کی وجہ سے ہنگامی صورتِ حال درپیش ہے۔
ملک بھر کے ہسپتالوں میں، سال کے پہلے ہفتے میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ مریض ہسپتال داخل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کچھ یونٹس میں ڈاکٹروں کو اپنی چھٹیاں منسوخ کرنی پڑی ہیں ۔
ہیزبروک شہر میں ایک مریض کو 3 دن تک اسٹریچر پر انتظار کرنا پڑا۔ سیٹے شہر میں سانس میں دشواری کی وجہ سے ایک 62 سالہ مریض ایمرجنسی روم میں 19 گھنٹے تک بستر کے خالی ہونے کا انتظار کرتا رہا۔
فرانس میں ہیلتھ ورکرز ان دنوں ہڑتال پر ہیں جبکہ پریکٹیشنرز، جو اپنی فیس میں اضافہ کر نے کا مطالبہ کررہے ہیں ، گزشتہ ماہ روکے گئے کام م کو اس ماہ بھی روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
دارالحکومت پیرس میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے وزارت صحت کے سامنے مارچ کیا۔
برطانیہ میں، ہسپتالوں میں کافی بستر نہ ہونے کی وجہ سے مریض گھنٹوں لائن میں انتظار کرتے ہیں۔ یہ مدت بعض اوقات 10 گھنٹے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
فوری علاج کی ضرورت نہ رکھنے والے لیکن سماجی نگہداشت کی ضرورت محسوس کرنے والے مریضوں کو ہوٹلوں کو ہوٹلوں میں بسایا جا رہا ہے۔
نرسیں اور ایمبولینس ورکرز، جنہوں نے پہلے ملک میں ہڑتال کی تھی، اس ماہ بھی اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب حکومت اہم شعبوں میں ہڑتالوں کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔