ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خطہ یورپ میں حفظان صحت کا نظام شدید مشکلات کا شکار ہے

کورونا وبا  کے   امتحان میں ناکام رہنے والے  خطہ یورپ کو  اب حفظان صحت کے ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔

یورپ کے کئی ممالک میں ہیلتھ کیئر ورکرز کی کمی، ہڑتالوں اور ادویات نہ ملنے کی وجہ سے حفظان  صحت نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔  چیک اپ  کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہونے والے  اور تاخیر سے طبی مداخلت  کی بنا پر  موت   کے منہ میں جانے والے مریض  یورپی ممالک  میں   شعبہ طب   کی  صورتحال  کی سنگینی  کا مظہر ہیں۔

فرانس میں  اسپتالوں کی کم گنجائش اور  عملے کا فقدان  نظام صحت  کو بری طرح متاثر کیے ہوئے ہے۔

ملک کے کچھ حصوں میں، ایمرجنسی وارڈ  سے رجوع کرنے  والے مریضوں کو علاج کے لیے کم از کم 12 گھنٹے، کبھی کبھی 90 گھنٹے  تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

جرمنی میں شعبہ  صحت سے منسلک  کئی ایک ملازمین  کورونا اور موسمی بیماریوں کی وجہ سے  چھٹی پر ہیں۔

ہسپتالوں کے بالغ اور اطفال دونوں کلینک میں کوئی بستر خالی نہیں بچا اور  ملک میں ا دویات  کا بحران تاحال حل نہیں ہوسکا۔

برطانیہ میں  حفظانِ صحت کا نظام   ایمرجنسی  سروسز کے بوجھ کو اٹھانے سے قاصر ہے۔

70 لاکھ سے زائد علاج معالجے کے منتظر  مریضوں کی تعداد  کے حامل ملک میں  ڈاکٹروں کی یونین  کا کہنا ہے کہ  ایمر جنسی   وارڈز میں افراتفری  کا ماحول  پایا جاتا ہے۔

برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، تاخیر سے مداخلت کی وجہ سے  ہر ہفتے 500 افراد ایمرجنسی وارڈز میں  دم توڑ رہے ہیں۔

برطانوی شہریوں کا خیال  ہے کہ  قومی صحت کے نظام  میں تبدیلیاں لانا لازمی ہے ۔

آسڑیا  کو بھی ادویات کے حصول میں دقت کا سامنا ہے تو  ملک میں  500 مختلف  نوعیت کی ادویات دستیاب   نہیں ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں