ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خواتین کی تعلیم پرعائد عارضی پابندی اٹھانے کیلئے کام کررہے ہیں، ذبیح اللہ مجاہد

human rights violation

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہےکہ حکومت خواتین کی تعلیم پرعائد عارضی پابندی اٹھانے کے لیے کام کررہی ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے او آئی سی سے ہونے والی میٹنگ کا خیر مقدم کیا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یقیناً عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہے نہ کہ اس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی خواتین کی تعلیم کو لے کر تشویش نا سمجھ میں آنے والی ہے تاہم امارت اسلامی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے اور عارضی پابندی کو اٹھانے کیلئے کام کررہے ہیں۔

دوسری جانب

طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے یونیورسٹی میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں تعلیم اور ترقی کے امور کو شریعت کی دفعات کے مطابق ترتیب دینا تحریک کا فرض ہے۔

 بلال کریمی نے کہا کہ طالبان نے خواتین کو وہ حقوق دیے ہیں جو ماضی میں انہیں حاصل نہیں تھے، طالبان تحریک نے کالعدم تنظیم داعش کے 98 فیصد ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں اور افغانستان میں داعش کے لیے کوئی مقبول انکیوبیٹر نہیں تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں