صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ہم ‘لوگوں کو جینیں دیں تا کہ ریاست زندہ رہے’ اصول کے تحت 81 صوبوں اور85 ملین شہریوں سے بغلگیر ہوتے ہیں اور ہم کسی کی نسل، لسان، عقیدے، ثقافت اور مذہب کی بنیادوں پر کسی قسم کی تفریق نہیں کرتے۔
صدر ایردوان نے کل استنبول میں خانہ بندوش شہریوں سے ملاقات کی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ جمہوریہ ترکیہ کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر ہم ترکیہ صدی کی نشاط کی تیاریوں میں مصروف ہونے کے وقت ایک بار پھر خانہ بدوش شہریوں سے دلی دوستی قائم کرنے اور ہم سفر بننے کے خواہاں ہیں، یہ سر زمین ہزاروں سالوں سے مختلف تہذیبوں ، ثقافتوں اور معاشروں کی میزبانی کرتی چلی آئی ہے تا ہم اس نے ہمیشہ برکت کی علامت کا درجہ برقرار رکھا ہے۔
خانہ بدوش ثقافت کو زندہ رکھتے ہوئے اسے آئندہ کی نسلوں تک پہنچانے کے لیے ایک عجائب گھر قائم کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے جناب ایردوان نے بتایا کہ "ترکیہ صدی اپنے آپ کو اس ملک کا حصہ ہونے کے لمس کو محسوس کرنے والے ہر کسی کی ملکیت ہے ، یہ ہر ایک سے بغلگیر ہو گی اور سب کا مشترکہ اثاثہ ہو گی۔”
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہم مضبوط جمہوریت اور ترقی کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ترکیہ صدی میں داخل ہو رہے ہیں جو ملک نے پچھلے 20 سالوں میں حاصل کیا ہے، ایردوان نے کہا، "یہاں تک کہ ہم نے اپنے خانہ بدوش شہریوں کے حوالے سے جو اصلاحات کی ہیں وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ مذکورہ دور میں کتنی تاریخی تبدیلیاں آئی ہیں۔
صدر ایردوان نے مزید کہا کہ”ترکیہ صدی کا اصل مطلب اس وژن کا اظہار ہے جو ہمارے ملک کے چپے چپے اور ہر شہری کے ساتھ ہمارے مشترکہ خوابوں تک پہنچائے گا۔”