کوئٹہ:بلوچستان کے صوبائی وزیر خزانہ زمرک خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلی نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر وفاق ہمیں مالی بحران سے نہیں نکالتا تو ہم اسمبلی میں کیوں، اسے تحلیل کر دیتے ہیں، وزیر اعلی کا پیغام میں نے وفاق تک پہنچایا۔
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ بلوچستان کی حالت یہ ہے کہ اگر این ایف سی کی قسط نہیں ملتی تو ایس ڈی پی متاثر ہو گی، فنڈز نہ ہونے کے باعث صوبہ مالی بحران کا شکار ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں بلوچستان کو نمائندگی نہیں دی گئی، ہمیں اپنے حقوق کیلئے ایک پیج پر آنا ہو گا تو دیکھیں گے حق کیسے نہیں ملتا۔
زمرک خان نے مزید کہا کہ وسائل ہمارے ہیں اور فائدہ دوسرے صوبے اٹھا رہے ہیں، ہم جذباتی بات نہ کریں تو کیا کریں، ہمیں وسائل پر اختیار چاہیے، گیس میں بلوچستان کے عوام کو سبسڈی ملنی چاہئے، 25 ہزار تنخواہ والا کس طرح گزارہ کرے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں ملک نہیں بچے گا بلوچستان کا کیا ہے،سیاست دان ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں، جب تک ملک آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے نجادت نہیں پا لیتا تو ترقی ممکن نہیں، لوکل گورنمنٹ کے ملازمین 15 ہزار روپے کی تنخواہ میں احتجاج پر ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ وفاق کیوں نہیں بٹھاتا، سیلاب کی مد میں وفاق سے ایک روپیہ نہیں ملا، دنیا بھر سے آنے والی امداد کہاں گئی؟، این ایف سی ایوارڈ پر وفاق کیوں کٹ لگاتا ہے، بلوچستان اتنا کمروز نہیں کہ اپنا حق نہ لے سکے۔
