لاہور:نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی حکومت ہوتی تو آج ملک 62ہزار ارب اور ہر شہری تین لاکھ کا مقروض، حکمرانوں کی جائدادوں میں دن دگنی رات چگنی ترقی اور غریب روٹی کا محتاج نہ ہوتا۔
راشد نسیم نے کہاکہ مدینہ کی ریاست میں حکمران روکھی سوکھی کھا کر عوام کو خوشحالی اور امن فراہم کرتے تھے، اسلامی حکومت جائدادیں بنانے کا نہیں بلکہ عوام کے لیے قربانیاں دینے کا نام ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ ایک گمنام پاکستانی نے ترکی کے زلزلہ زدگان کے لیے کروڑوں ڈالر عطیہ دیا، پاکستان کے حکمران اپنی تجوریوں سے پھوٹی کوڑی نکالنے کو تیار نہیں۔ ملک کے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی جائدادیں نیلام کر کے قومی خزانے میں جمع کرا دی جائیں تو پاکستان تمام مشکلات کی دلدل سے باہر نکل سکتا ہے۔
راشد نسیم نے کہا کہ اسلامی حکومت میں شخصیات نہیں نظریے کی حکومت ہوتی ہے، اصل حکمران اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جب کہ بندوں کا کام اللہ کے قوانین کو اپنے دائرہ حکومت میں نافذ کرنا ہے۔ سیکولر اور لادین حکومتوں میں شخصیات اقتدار میں ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تربیت گاہوں کا مقصد ایسی لیڈرشپ تیار کرنا ہے جو ملک کو اسلامی نظام دے سکے۔
