پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحدی چوکی 19 فروری سے بند ہونے کی وجہ سے دونوں طرف ٹرالروں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
پاکستان کے جیو نیوز ٹیلی ویژن چینل کے مطابق 19 فروری کو افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کی طرف سے سرحدی چوکی کو یک طرفہ شکل میں بند کئے جانے کے بعد طورخم سرحدی چوکی پر داخلے و خروج کے منتظر ٹرالروں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔
پاکستان۔افغانستان مشترکہ ٹریڈ اینڈ کامرس چیمبر کے سربراہ ضیاء الحق سرحدی نے کہا ہے کہ ٹرالر ڈرائیوروں کو مختلف سرحدی چوکیوں کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے تاہم دیگر سرحدی چوکیوں کی طرف سفر کے معاملے میں ٹرالر ڈرائیوں کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔
سرحدی چوکی کھولنے کے لئے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ کل، طورخم سرحدی چوکی پر، تاحال نامعلوم وجوہات کی بنا پر، پاکستان اور افغانستان کی یونٹوں کے درمیان دو طرفہ فائرنگ ہوئی تھی۔
نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک پاکستانی شخصیت نے کہا تھا کہ افغان مریضوں کے ہمراہ آنے والے افراد کے ناکافی دستاویزات کی وجہ سے انہیں ملک میں داخل نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف افغانستان نے بھی 19 فروری کو سرحدی چوکی بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان ایک تواتر سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔