جی۔ 7 ممالک نے روس سے حملوں کو روکنے اوریوکرین سے انخلا کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکہ ،جرمنی، برطانیہ ، کینیڈا، فرانس، اٹلی اور جاپان پر مشتمل جی ۔ 7 ممالک کے سربراہان کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے خلاف اس کی جنگ۔ یوکرین کی سفارتی، مالی اور فوجی حمایت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
"روس کے خلاف پابندیوں کو روکنے میں مدد کرنے والے تیسرے ممالک کو اس کا سخت ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا۔” بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ روس ہی ہے جس نے جنگ شروع کی اور اسے ختم کرے گا، اور ماسکو انتظامیہ پر یوکرین میں ہسپتالوں، اسکولوں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور تاریخی شہروں کو تباہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی جارحیت بند کرے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یوکرین کی سرزمین سے فوری طور پر مکمل اور غیر مشروط طور پر اپنے فوجیوں کو واپس بلا لے‘‘۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ روس کی جانب سے کسی بھی کیمیائی، حیاتیاتی، تابکاری یا جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں نئے START معاہدے پر عمل درآمد کو معطل کرنے کے روس کے فیصلے پر گہرا افسوس ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ زاپوریا پلانٹ سے روسی فوجیوں کے مکمل انخلا کے ساتھ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے ہی نیوکلیئر پاور پلانٹ پر روس کے مسلسل کنٹرول سے متعلق خدشات کو دور کیا جائے گا۔
G7 رہنماؤں نے کہا کہ وہ روس پر پابندیاں بڑھا کر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
بیان میں اقوام متحدہ اور ترکیہ کی کاوشوں سے طے پانے والےبحیرہ اسود کے اناج راہداری معاہدے کی 18 مارچ کو خود ساختہ طور پر توسیع دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔