اسلام آباد: غیر سرکاری تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز( پی آئی سی ایس ایس) پکس نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوا ہے تاہم جنوری 2023 کے مقابلے میں اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں کمی آئی ہے۔
گزشتہ ماہ ملک میں دہشت گردی کے 58 واقعات رونما ہوئے جن میں 59 افراد لقمہ اجل بنے جن میں 27 عام شہری 18 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 17 عسکریت پسند شامل تھے جبکہ 134 افراد زخمی ہوئے جن میں 54 عام شہری اور 80 سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔
PICSS کے ڈیٹا بیس کے مطابق جون 2015 کے بعد پہلی بار پاکستان کو ا کسی ایک ماہ میں 58 حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست مخالف تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان فروری میں بھی جاری رہا۔ اگرچہ جنوری 2023 کے مقابلے فروری میں 32 فیصد زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔
تاہم، جنوری کے مقابلے میں ہلاکتوں کی تعداد میں 56 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جنوری 2023 میں زیادہ تر اموات پشاور پولیس لائن خودکش حملے کی وجہ سے ہوئیں۔ فروری میں خودکش حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا لیکن ان کے اثرات اتنے تباہ کن نہیں تھے جتنے جنوری میں تھے۔
فروری 2023 میں تین خودکش حملے ہوئے جن میں نو افراد مارے گئے اور 37 زخمی ہوئے۔ جنوری میں دو خودکش حملوں میں 106 افراد لقمہ اجل بنے تھے اور 216 زخمی ہوئے تھے۔
فروری کے مہینے میں خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ سابقہ فاٹا (کے پی کے قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں حملوں میں اضافہ ہوا۔ پنجاب اور سندھ میں بھی حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ کراچی پولیس ہیڈ کوارٹر پر ٹی ٹی پی کا حملہ اس مہینے کا سب سے ہائی پروفائل حملہ تھا۔
فروری 2023 میں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسند گروپوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کیا اور کم از کم 55 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔ ملک بھر سے 75 مشتبہ عسکریت پسندوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔
ملزمان کی اکثریت پنجاب اور کے پی سے گرفتار کی گئی۔PICSS کے اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ عسکریت پسندوں کے حملے بلوچستان سے رپورٹ ہوئے جہاں PICSS نے کم از کم 22 حملے ریکارڈ کیے جن میں 25 افراد مارے گئے اور 61 زخمی ہوئے۔
سابقہ فاٹا کو 16 حملوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں 16 افراد مارے گئے اور 39 زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخواہ کو 13 حملوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں 6 افراد ہمارے گئے اور 8 زخمی ہوئے۔ پنجاب میں چار عسکریت پسندانہ حملے ہوئے جن میں دو افراد مارے گئے اور آٹھ زخمی ہوئے جبکہ سندھ میں دہشت گردی کے تین واقعات میں میں 10 افراد مارے گئے اور 18 زخمی ہوئے۔
