کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کراچی کے مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواست پر سماعت 7مارچ تک کے لیے ملتوی کردی سندھ ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کراچی کے مستعفی ایم این ایز کی استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان اسمبلی کی فوری سماعت کی استدعا کردی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کو کیا ایمرجنسی ہے کیوں آئے ہیں؟
پی ٹی آئی کے وکیل شہاب امام نے موقف دیا کہ ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہے ہماری درخواست فوری سنی جائے۔ آپ نے 21 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے جب تک الیکشن ہوجائیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم درخواست کو سن کر فیصلہ کردیں گے۔ شہاب امام ایڈوکیٹ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ بیلٹ پیپرز چھپ گئے تو عوام کے کروڑوں روپے ضائع ہوں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ جذباتی ماحول کیوں بنارہے ہیں ہم قانون کے مطابق سن کر فیصلہ کردیں گے۔ عدالت نے فوری سماعت کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیئے۔
عدالت نے 7 مارچ کے لئے درخواست کی سماعت مقرر کردی۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ اگر استعفی منظور کرنے سے پہلے کہہ دیں تو اسپیکر کے پاس اختیار نہیں ہے۔
انہیں غلط طور پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا ہے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری کا پروسیس قانون کے مطابق پورا نہیں کیا۔
استعفی دینے والے ارکان سے انکے استعفوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس فیصلے کی روشنی میں ایم این ایز کو ڈی نوٹی فائی کردیا۔
استعفوں کی منظوری کے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواستیں دائر کرنے والوں میں ایم این اے علی زیدی، آفتاب جہانگیر، فہیم خان، عطا اللہ ایڈووکیٹ، سیف الرحمان محسود، آفتاب صدیقی، اسلم خان، نجیب ہارون اور عالمگیر خان شامل ہیں۔
سماعت کے بعد آفتاب صدیقی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پہلے ہمیں اکیس تاریخ دی گئی تھی، اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ ہائی کورٹس سے فیصلہ ہوگیا ہے۔
اگر الیکشن ہوجائیں گے تو کیا فائدہ کیس کا۔ یہ کس قسم کا انصاف ہے 7 مارچ کی تاریخ ملی ہے اگر 7 ، 8 دن ملیں گے تو کیا فائدہ ہوگا۔ پورے ملک کی ہائیکورٹس نے الیکش کمیشن کے نوٹیفیکیشن کو معطل کردیا ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل شہاب امام ایڈوکیٹ نے کہا کہ دیگر ہائیکورٹس نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن اور الیکشن کے شیڈول کو بھی معطل کردیا۔ ہے۔
۔9 حلقوں میں ستائیس کروڑ روپے عوام کے ضائع ہوجائیں گے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ راجا ریاض جو ڈمی اپوزیشن لیڈر ہے اسے ہٹانا ہے تو ہمارے استعفے منظور کرلئے گئے۔
