پشاور: امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کو کھیل بنا دیا ہے۔
مرکز اسلامی پشاور سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل 7 حلقوں پر الیکشن لڑا گیا، عمران خان نے اکیلے ساتوں حلقوں سے الیکشن لڑا اور اب ان نشستوں سے انہیں ڈی سیٹ کردیا گیا ہے۔ ان نشستوں پر اب دوبارہ انتخاب ہوگا اور قومی خزانے سے قومی کی دولت لٹائی جائے گی۔
پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف جنرل الیکشن کی تاریخ نہیں دی جارہی، دوسری طرف صوبائی الیکشن کے لیے بھی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔ تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ وفاقی حکومت ختم کرکے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن منعقد کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کے ہوتے ہوئے ضمنی صوبائی الیکشن کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں دھاندلی کا احتمال ہے۔ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے میں چند ماہ ہی رہ گئے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کالعدم کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان انتخابات میں بھی ایک امیدوار کئی حلقوں سے کھڑا ہوگا اور اس کی جیت کی صورت میں پھر انتخابات ہوں گے۔ پارلیمنٹ کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ یہ مذاق اب مزید بند کیا جائے۔ انتخابات پر عوام کے عدم اعتماد کی وجہ وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتیں ہیں۔
پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن غیر یقینی کی فضا کو ختم کرے اور ایک ہی دن تمام اسمبلیوں کے انعقاد کا اعلان کرے۔
