ایران نے، امریکہ کے جنوبی بحیرہ چین میں جنگی جہاز بھیجنے کے خلاف، ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایران وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "علاقے میں نیا توازن بن رہا ہے اور ایسے میں علاقے سے باہر کی فوجی طاقتوں کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ امریکہ کی طرف سے وقفے وقفے سے مغربی ایشیاء میں آبدوزیں یا پھر جنگی بحری جہاز بھیجنے کی خبریں مل رہی ہیں۔ اصل میں واشنگٹن انتظامیہ دنیا میں اپنی طاقت میں کمی کو ڈھانپنے کی کوشش کر رہی ہے”۔
کنعانی نے کہا ہے کہ امریکہ مغربی ایشیاء میں جنگوں کو ہوا دے کر اور اختلافات و تنازعات کی حوصلہ افزائی کر کے علاقائی اقوام کے ارادے سے متضاد اقدامات کا مرتکب ہو رہا ہے۔ واشنگٹن کو نئے حقائق کو سمجھنا چاہیے اور غیر یقینی کی شکار صیہونی حکومت کے مفادات کی خاطر مغربی ایشیاء اور خلیج بصرہ میں مداخلت سے باز آ جانا چاہیے”۔
واضح رہے کہ چین پیپلز لبریشن آرمی کے جنوبی کمانڈ آفس کے ترجمان تیان ژونلی نے کہا تھا کہ امریکہ کے کروز میزائلوں سے لیس یو ایس ایس ملیوس جنگی بحری جہاز نے، جنوبی بحیرہ چین کے سپراٹلی جزائر کے قریب، چینی بحری حدود میں بلا اجازت دخول کیا ہے۔
چین کے مشرقی کمانڈ آفس نے بھی 8 تا 10 اپریل کے دوران آبنائے تائیوان میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کیا تھا۔