اسلام آباد : امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک مذاکرات تعطلی خارجہ امور کی نااہلی ہے، طویل تعطل کی وجوہات کا تعین کیا جائے۔ دوہا مذاکرات میں پاکستان کا کردار ادا نہ کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہوا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی محسن داوڑ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی ممبران محمد خان ڈاہا، زہرا ودود فاطمی، نور الحسن تنویز ،احمد حسین ڈاہر، رمیش کمار اایم این ایز کے ساتھ ساتھ سیکرٹری خارجہ اسد مجید خان اور وزارت دفاع کے حکام شریک ہوئے۔
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کے حوالے سے کمیٹی سفارشات پر جواب دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ پاکستان ایران کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے۔ یہ منصوبہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس معاملے پر ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ایران جس طرح انڈیا اور چین کو تیل کی فراہمی کر رہا ہے ، اسی طرز کا پاکستان کو تیل کی فراہمی کا منصوبے تشکیل دینے پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ وزارت تجارت کو اس حوالے سے پوچھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات اور بینکنگ چینل کھولنے کے حوالے سے بھی اسد مجید نے بتایا کہ اس کا جواب وزارت تجارت اور وزارت خزانہ سے لیا جا سکتا ہے۔
پاک امریکہ تعلقات پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تاہم ان تعلقات کے حوالے سے پاکستانی عوام اور پارلیمان کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔ چند افراد کی جانب سے فیصلے ماضی میں نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پاکستان عوام کا مفاد ہونا چاہیے۔ امریکہ سپر پاور ہے اس کے ساتھ قطع تعلقی ہمارے لئے نقصان دہ ہے۔ تاہم چین امریکہ مسابقہ کے باعث حالات کڑے ہو چکے ہیں۔ چین نے کبھی ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ ہمیشہ چین نے پاکستان کی حمایت کی ہے۔ ہمیں چین سے دوری کا سوچنا بھی نہیںچاہیے۔ انڈیا نے چین ، روس اور امریکہ کے ساتھ بیک وقت تعلقات کو قائم رکھا ہے ہوا ہے۔ ایسے ماڈل پر پاکستان کو بھی کام کرنا چاہیے۔
کمیٹی نے پاک امریکہ اسٹریٹجک مذاکرات کے طویل تعطل پر سوال اٹھایا ، طویل تعطل کی وجہ کیا ہے۔ جس پر سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ یہ تعلقات 2015ء کے بعد شروع نہیں ہو سکے تاہم کئی دوسرے فورمز پر امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی اور صحت کے شعبے میں حال ہی میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کا آغا ز ہوا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ دوحہ مذاکرات کے عمل میں پاکستان کی شمولیت کیوں نہ ہو سکی۔ دوحہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار ادا نہ کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہواہے۔ جس پر سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ بعض معلومات حساس ہیں۔ جس پر محسن داوڑ نے اجلاس کا ان کیمرہ کرتے ہوئے میڈیا کو اجلاس سے اٹھ جانے کو کہا۔
