ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پارلیمنٹ فیصلوں کو ماننے سے انکار کرسکتی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی

اسلام آباد:پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ  اگر پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار کو تسلیم نہیں کرنا تو پھر الیکشن کا مذاق بھی ختم کردیں، اگر سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں مداخلت کرے گی تو پھر دوسرے ادارے بھی ان کی حدود میں مداخلت کریں گے۔

پرویز اشرف نے کہا کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے اور اگر قدغن لگا دی جائے گی کہ صرف وہی قانون سازی ہوگی جو سپریم کورٹ کہے گی۔ ان کے بقول, پھر تو پارلیمنٹ کی آئینی بالادستی تو ختم ہوگئی۔

انہوں نے کہاکہ  پھر انتخابات کا مذاق ختم کرنا چاہیے اور آئین سازی بھی انہیں کو کرنی چاہیے، یہ کہاں کا اصول ہے کہ قانون بھی وہ بنائے اور اس پر فیصلے بھی وہی کریں؟

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس صورت میں پارلیمنٹ سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی اداروں کی حدود میں مداخلت کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرسکتی ہے،  پارلیمنٹ نے از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق قانون سازی کی کہ یہ فیصلہ صرف چیف جسٹس کے بجائے تین سینئر جج کریں تو سپریم کورٹ نے اس بل کو قانون بننے سے پہلے ہی روک دیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ  ان کے بقول پارلیمان کو سرنگوں کرنے کا یہ رویہ بہت خطرناک ہے، یہی سپریم کورٹ جو عوام کے منتخب نمائندوں کو قانون سازی سے روک رہی ہے، نے فوجی آمر پرویز مشرف کو قانون میں ترمیم کا حق دے دیا تھا۔ ان کے بقول ریاست کے آئینی اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں