قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے حکم پر اسٹیٹ بینک کو الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہ کرنے کی قائمہ کمیٹی کی سفارش منظور کرتے ہوئے 21ارب روپے کی سپلمینٹری گرانٹ کی ڈیمانڈ مسترد کر دی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جس میں قائمہ کمیٹی خزانہ کی رپورٹ پیش کی گئی، رپورٹ چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ قیصر احمد شیخ نے پیش کی۔ قومی اسمبلی نےکثرت رائے سے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔
اس سے قبل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیٹ بینک کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کیلیے فنڈز کا معاملہ وزارت خزانہ کو بھجوانے کی ہدایت کی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا خصوصی اجلاس چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا، جس میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کے معاملہ زیر بحث آیا۔
قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں ایک ہی دن انتخابات ہو ں الیکشن کمیشن نے فریقین کو سننے کے بعد کہا کہ انتخابات اکتوبر میں ہوں ،الیکشن کمیشن کے وجوہات میں فنانس کا نہ ہونا اور ملکی سیکیورٹی بھی شامل تھے۔
اس پارلیمارن نے قرارداد کے زریعے مطالبہ کیا اگر ایک ساتھ الیکشن ہوں تو جمہور مضبوط ہو گی ،فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈ ز کو استعمال کرنے کا حق آئین پاکستان پارلمیان کو دیتاہے ، بعدازاں قومی اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 12بجے تک ملتوی کردیا گیا۔