کراچی:پاکستان کے تمام بین الاقوامی ایئر پورٹس پر ایئر پورٹ منیجرز منکی پاکس سے بچاو اور روک تھام سے متعلق اقدامات کو حتی الامکان موثر بنانے کے لیے باقاعدگی سے دیگر ایجنسیز کے ساتھ کوآرڈینیشن میٹنگز کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایئرپورٹس پر کسی فلائٹ پر مشتبہ منکی پاکس کا مریض مسافر پایا گیا تو اسے ایئر پورٹ سے باہر جانے کے لیے معمول کے راستے استعمال نہیں کرنے دیے جائیں گے،ایئر لائن مسافر کی امیگریشن حفاظتی تدابیر کے ساتھ کرائے گی جس میں دستانے اور ماسک پہننا لازمی ہے۔
بارڈر ہیلتھ سروسز (بی ایچ ایس)اور ایئر لائن اسٹاف (سی اے اے)ایمبولینس میں مریض کو اسپتال منتقل کریں گے، مشتبہ یا کنفرم کیسز زیادہ ہونے کی صورت میں ایئر لائن مریضوں کو قرنطینہ منتقل کرنے کی ذمے دار ہوگی جبکہ بی ایچ ایس تعاون فراہم کرے گی۔
فلائٹ پر ڈی پورٹیز ہونے کی صورت میں ایئر لائن (بی ایچ ایس)کو اپنے اسٹیشن منیجر کے ذریعے لینڈنگ سے 3 گھنٹے پہلے آگاہ کرے گی۔مشتبہ یا کنفرم کیسز/ مسافروں کو جہاز کے پچھلے حصے میں منتقل کیا جائے گا جہاں وہ ایک سیٹ کے وقفے سے بیٹھیں گے۔
گراونڈ ہینڈلنگ ایجنسیز وہیل چیئر ہینڈلرز کو ماسک اور دستانے فراہم کر رہی ہیں، بیگیج ہینڈلرز جہاز سے اترنے والے سامان کو فیومیگیشن کے ذریعے ڈس انفیکٹ کر رہے ہیں۔احتیاطی تدابیر کے تحت لگیج ایریا، میڈیکل انسپیکشن ایریا، ایف آئی اے کاونٹرز، کوریڈورز، ایسکلیٹرز اور تمام متصل ایریاز بشمول ٹوائلٹس میں جراثیم کش اسپرے کیا جا رہا ہے۔
پورٹرز دستانے اور ماسک کی پابندی کر رہے ہیں اور ٹرالیز کو باقاعدگی سے صابن اور پانی سے دھویا جا رہا ہے۔بی ایچ ایس اور سی اے اے اسٹاف لفٹس اور ہینڈ ریلز کی ڈس انفیکشن کو یقینی بنا رہے ہیں۔سی اے اے ایئر کرافٹ ویسٹ کو پہلے سے طے شدہ ایس او پیز کے تحت ٹھکانے لگائے جانے کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔
