ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعیناتی غیرقانونی نکلی

سابق وزیر اعلی عثمان بزدار کے دور میں قواعد وضوابط سے ہٹ کر تعیناتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعیناتی غیرقانونی نکلی۔

پی ایچ ای سی ذرائع کے مطابق ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے یوای ٹی ٹیکسلہ کے ایڈیشنل رجسٹرار ڈاکٹر منصور بلوچ کو سابق وزیر اعلی عثمان بزدار کی خصوصی سفارش پر پی ایچ ای سی میں چیف آپریٹنگ آفیسر لگایا گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ایچ ای سی کے قواعد وضوابط کے مطابق ڈیپوٹیشن پر تقرری کا پراسس اختیار نہیں کیا۔ قواعد کے مطابق پوسٹ کا اشتہار جاری کیا جاتا ہے۔ پھر امیدواروں سے درخواستیں مانگی جاتی ہیں۔ پھر سلیکشن بورڈانٹرویو میں موزوں امیدوار کا انتخاب کرتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر منصور بلوچ کی تقرری کرتے وقت یہ پروسیجر ہی اختیار نہیں کیا گیا۔ سابق وزیر اعلی عثمان بزدار نے اقربا پروری کی بنیاد پر منصور بلوچ کی تقرری کا لیٹر جاری کردیا۔

کمیشن کے قوانین کے مطابق ڈیپوٹیشن پر تقرری کے لیے بھی اشتہار جاری ہوتا ہے۔ اس عہدے کے لیے کوئی سلیکشن بورڈ منعقد نہیں ہوا۔منصور بلوچ کے لیے اس سارے پراسس اور میرٹ کو نظر انداز کیا گیا۔

یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ منصور بلوچ کا تعلق عثمان بزدار کے علاقے سے ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں