ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سویڈن میں قرآن کی اشتعال انگیزی پر  شدید ردعمل کا سلسلہ جاری

سویڈن میں قرآن کی اشتعال انگیزی پر  شدید ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔

ترکیہ کی قومی اسمبلی  کے اسپیکر  نعمان قرتلمش  نے سویڈن میں عید الاضحی کے موقع پر مسجد کے سامنے قرآن کو جلانے کے عمل پر ردعمل کا اظہار کیا۔

قرتلمش  نے ایک بیان میں کہا کہ قران کریم کو جلانے کے دوران پولیس کی نگرانی کو یقینی بنایا گیا تھا اور ہائی کورٹ کے فیصلے نے اس گھناؤنے، بدصورت، غیر انسانی اور گھٹیا حملے کی راہ ہموار کی تھی جسے قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ 2 ارب مسلمانوں کے مقدس مقامات پر کیا جا رہا ہے۔ آپ انسانیت کو جانتے ہیں، آپ جمہوریت کو جانتے ہیں، آپ عقائد کا احترام جانتے ہیں؟

نائب صدر جودت یلماز   نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سویڈن میں قرآن مجید کو جلانے کے حوالے سے ایک بیان  دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری مقدس کتاب کی  ان گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے قدر میں کمی نہیں آئے گی۔قدرو منزلت میں کمی انہین لوگوں کی ہوگی جو   یہ اشتعال انگیزی کرتے ہیں ۔

فخر الدین آلتون نے بھی سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر انگریزی میں ایک بیان  دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی گھناؤنی کارروائیوں پر آنکھیں بند کرنا جرم میں شریک ہونا ہے۔ سویڈش حکام کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور دہشت گردی کے کسی بھی مظہر کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔

مذہبی امور کے صدر علی ایرباش نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک بیان  دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں عیدالاضحی کے موقع پر سویڈن میں ہماری مقدس کتاب قرآن کے خلاف توہین آمیز اقدام کی منظوری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میں سویڈن اور مغربی ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس بیمار ذہنیت کو تحفظ دینے سے باز رہیں جو کہ مسلمانوں، سماجی امن اور دشمنی کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ان واقعات کے مرتکب افراد کے خلاف ٹھوس پابندیاں لگائی جائیں گی۔

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں عراقی نژاد سلوان مومیکا نے سٹاک ہوم کی مسجد کے سامنے پولیس کی حفاظت میں قرآن مجید کو نذر آتش کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں