ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لوک گلوکار الن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس بیت گئے

  کراچی: صدارتی تمغہ یافتہ لوک گلوکار الن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس بیت گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ کے روایتی لباس میں ملبوس الن فقیر نے اپنی مخصوص گائیکی کے ذریعے صوفیانہ کلام کو جس انداز میں پیش کیا وہ صوفیانہ شاعری سے ان کی محبت کا واضح ثبوت ہے، ان کی گائیکی کے چرچے اندورن سندھ میں تو پہلے ہی تھے مگر گلوکار محمد علی شہکی کے ساتھ  گیت نے الن کی شہرت کو چار چاند لگا دیے۔

لطیفی راگ سن کر الن فقیر پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی، اسی وجہ سے انہوں نے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدالطیفؒ کے مزار پر رہائش اختیار کرلی، ان کے  شوق کو دیکھتے ہوئے رفقا نے باقاعدہ گانے کا مشورہ دیا جس پر الن نے شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کا کلام گانا شروع کردیا۔

حکومت نے الن فقیر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سن 1980ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ انہوں نے شاہ عبدالطیف ایوارڈ، شہباز اور کندھ کوٹ ایوارڈز بھی حاصل کیے۔

الن فقیرعلیل ہوئے اور کراچی کے مقامی اسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد 4 جولائی سن 2000ء کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ صوفیانہ اور لوک موسیقی کے حوالے سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں