اسلامی مملکتوں اور بین الاقوامی اسلامی تنظیموں نے قرآن کریم کو ہدف بنانے والے حملوں کی اجازت دینے پر سویڈن کے خلاف رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں 28 جون کو قرآن کو جلانے والے عراقی نژاد سلوان مومیکا نے 20 جولائی کو پولیس کی حفاظت میں سویڈن میں عراقی سفارت خانے کے سامنے قرآن کو نذر آتش کیا جس کے بعد عالم اسلام کی جانب سے سویڈن کے خلاف ردعمل میں اضافہ ہوا۔
ترکیہ ان اولین ممالک میں سے ایک تھا جس نے سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اسٹاک ہوم میں عراقی سفارت خانے کے سامنے ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کو نشانہ بنانے والے گھناؤنے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں‘‘
عراق کے دارالحکومت بغداد میں شیعہ مذہبی اور سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر سے وابستہ صدر تحریک کے ارکان نے سویڈن کے سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور سفارت خانے کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی۔
بغداد انتظامیہ نے سویڈن کی سفیر جیسیکا سوارڈسٹروم کو ملک چھوڑنے کو کہا اور عراق میں سویڈش سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز کو واپس لے لیا۔
عراقی کرد علاقائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سویڈن میں قرآن پر حملوں کے بعد اسٹاک ہوم میں اس کے نمائندہ دفتر نے اپنی سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔
پاکستان نے قرآن پاک پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم نے ایک بیان میں اشتعال انگیز کارروائی کی مذمت کی اور اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا کہ سویڈش حکام اس ’’قابل مذمت عمل‘‘ کے سنگین نتائج کے باوجود ایسی کارروائیوں کی اجازت دیتے رہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک تحریری بیان میں مقدس کتاب پر حملے کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا گیا اور سویڈش حکام کی جانب سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے والی اشتعال انگیز کارروائیوں کو دہرانے کی اجازت دینے پر مذمت کی گئی۔
سٹاک ہوم میں قرآن پاک پر حملے کی اجازت کے جواب میں قطر نے سویڈن کو احتجاجی مراسلہ دیا۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے سویڈن کے ابوظہبی کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے سویڈن کی حکومت کی جانب سے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قرآن پاک پر حملے کی اجازت دینے پر احتجاج کیا۔
مصر کے ادارہ الازہر نے بھی مسلمانوں سے سٹاک ہوم میں قرآن پاک پر حملے کے ردعمل میں سویڈش مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے سویڈش حکام سے مجرموں کے خلاف ضروری کارروائی کرنے اور ایسے نفرت انگیز جرائم کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں سویڈن کے سفیر کو وزارت میں طلب کیا گیا ہے۔
اردنی وزارت خارجہ کی جانب سے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ سویڈن کے عمان کے ناظم الامور کو وزارت میں طلب کیا گیا اور سٹاک ہوم میں قرآن پاک پر حملے کی اجازت دینے پر سویڈن کے سفارت کار کو سخت احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔
لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے مطالبہ کیا کہ قرآن پر حملوں کی تکرار کی وجہ سے سٹاک ہوم میں لبنان کے سفیر کو واپس بلایا جائے اور بیروت میں سویڈن کے سفیر کو ان کے ملک بھیجا جائے۔
لیبیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں قرآن پاک پر حملے کی مذمت کی گئی اور سویڈش حکومت نے ایسے حملوں کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
یمن کی وزارت خارجہ نے سویڈن میں قرآن پاک پر بار بار حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور عدم برداشت اور انتہا پسندی کو پھیلانے والے اقدامات کے خلاف قانونی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو گائیت نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سویڈن کی طرف سے ایسی اشتعال انگیز کارروائیوں کی اجازت فکر اور اظہار کی آزادی کے دائرہ کار میں نہیں آتی اور ان تصورات کی آمیزش سے انتہا پسندی اور تشدد کو ہوا ملتی ہے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن عزت الرشق نے مقدس کتاب پر حملے کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے "ذلت آمیز حملے” آزادی اظہار کا غلط استعمال ہیں۔