ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل سال کے آغاز سے اب تک 40 فلسطینی بچے قتل کر چُکا ہے

اسرائیل رواں سال کے آغاز سے اب تک 40 فلسطینی بچوں کو قتل کر چُکا ہے۔

بین الاقوامی تحریک برائے تحفظِ اطفال کے شعبہ فلسطین کے حکام میں سے عائد ابو قاتیش نے موضوع سے متعلق  فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘وافا’کے لئے بیان جاری کیا ہے۔

ابو قاتیش نے مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی بستیوں کے سکیورٹی عملے کی فائرنگ سے زخمی 17 سالہ فلسطینی بچے’ رمزی فتحی  حمید’  کی  آج صبح ہسپتال میں وفات کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ اس وفات کے ساتھ سال کے آغاز سے تاحال اسرائیل کی طرف سے قتل کئے گئے فلسطینی بچوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس زمانی عرصے میں اسرائیلی فورسز یا پھر یہودی آبادکاروں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں 33 اور  زیرِ محاصرہ غزہ کی پٹی میں 7بچوں کو قتل کیا ہے۔

ابو قاتیش نے کہا ہے کہ اس وقت 160 فلسطینی بچے اسرائیلی حکام کی حراست میں ہیں ان میں سے 21 بچوں کو انتظامی گرفتاریوں کے زمرے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہودی آبادکاروں کی طرف سے فلسطینی بچوں کے قتل کا سزا کے بغیر رہنا قاتلوں  کی حوصلہ افزائی کا مفہوم رکھتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہودی آبادکاروں کی طرف سے گئے حملے اور نتیجتاً فلسطینی بچوں کی ہلاکتیں ہمیشہ سے نظر انداز کی جا رہی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں