ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لیاقت آباد پرندہ مارکیٹ نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا

  کراچی: سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کے باہر لگنے والی اتوار پرندہ مارکیٹ نے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں سندھ گورنمنٹ اسپتال کے باہر ہر اتوار کو پرندہ مارکیٹ لگائی جاتی ہے جہاں سیکڑوں کی تعداد میں بیوپاری اور خریدار مختلف نسل کے رنگ برنگے پرندوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ ہر اتوار صبح سے شام تک اس بازار میں شہریوں کی جوق در جوق آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کے باعث دوپہر کے وقت کریم آباد سے لیاقت آباد جانے والے ٹریک پر شدید ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔

sgh2sgh2

ٹریفک جام کی وجہ سے سندھ گورنمنٹ اسپتال آنیوالے مریضوں، تیمارداروں اور عملے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے، اسپتال کے مرکزی دروازے اور اطراف میں رش کی وجہ سے جنرل ایمرجنسی اور امراض قلب کے شعبہ حادثات میں آنے والے مریضوں کو اسپتال تک رسائی حاصل کرنے میں اضافی وقت لگتا ہے جس سے انکی زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے۔

sgh3sgh3

اسپتال انتظامیہ کے مطابق کارڈیک ایمرجنسی کے مریض راستے میں پھنس جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت بھی تشویشناک ہوجاتی ہے، ایمبولنسوں میں بیٹھے مریض اور تیماردار کافی دیر ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں، مریضوں کی ایسی حالت دیکھ کر جب اسپتال کے چوکیدار مزاحمت کرتے ہیں تو ان کو دھمکایا جاتا ہے، بیوپاریوں کی غیر سنجیدگی اور پولیس و حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے اسپتال کے عملے اور اتوار پرندہ مارکیٹ کے بیوپاریوں کے مابین تلخ کلامی اور جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔

sgh4sgh4

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار اس پرندہ مارکیٹ اور غیر قانونی پارکنگ کو منتقل کرنے کے لیے کے ایم سی سمیت دیگر متعلقہ حکام کو خطوط اور درخواستیں لکھی ہیں لیکن بار بار نشاندہی کے باوجود اس سنگین اور دیرینہ مسئلے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

sgh5sgh5

اسپتال میں آنے والے تیمارداروں اور مریضوں نے کہا کہ اس پوری صورتحال میں اگر کوئی مریض جان سے چلا گیا تو کون جوابدہ ہوگا؟۔ اس طرح کے بازار وہاں ہونے چاہئیں جہاں صحت کے مراکز موجود نہ ہوں اور نا ہی مریضوں کی آمد و رفت میں خلل پیدا ہو، حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بازار کے لیے متبادل جگہ فراہم کریں جس سے ہمیں ریلیف مل سکے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں