حیدرآباد: جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر نےکہا ہے کہ قادیانی دین اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیاں ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے لئے نقصان کا باعث ہیں۔
ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر کا محمدی مسجدد ارالسلام پریٹ آباد میں دفاع ختم نبوت ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ7ستمبر1974ء پاکستان کی تاریخ کا انتہائی اہم اور تایخی اہمیت کاحامل دن ہے، اس دن پاکستان کی پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ) نے پوری قوم بلکہ امت مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے قائد اہلسنت علامہ شاہ احمدنورانی صدیقی نوراللہ مرقدہ کی زیر قیادت کئی مہینوں کی مسلسل جدوجہدوتحریک اور اسمبلی کی بحث و مباحثہ کے بعد متفقہ طور پرقرار داد منظور کر کے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار قادیانیوں،مرزائیوں اور احمد یوں کومتفقہ طور پر کافر و مرتد اور غیر مسلم اقلیت قرار دیا یوں تقریبا ایک صدی بعداس فتنہئ کے مکروہ عزائم کے خلاف جدوجہد پائیہ تکمیل کو پہنچی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں 30جون 1974ء کو مولانا شاہ احمد نورانی نوراللہ مرقدہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کیلئے قومی اسمبلی میں تاریخی قرار داد پیش کی تھی جو7ستمبر1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پرمنظور کرکے فتنہ قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیااور یوں جمعیت علماء پاکستان کے منشور مقام مصطفےٰ ﷺ کے تحفظ کو عملی جامہ پہنایا
صاحبزادہ زبیر کا کہنا تھا کہ اس تاریخ ساز جدوجہد کی کامیابی اور ختم نبوت کے شہداء کی یادمیں جے یو پی کے زیر اہتمام ملک بھر میں دفاع ختم نبوت کانفرنسیں،سمینار،ریلیاں جلسے اور جلوس منعقد کئے گئے اورپوری قوم نے قائد اہلسنت علامہ شاہ احمد نورانی کی بے مثال جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قادیانی دین اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیاں ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے لئے نقصان کا باعث ہیں لہذا قادیانیوں کو فوری طور پر کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔سقوط ڈاکہ بھی قادنیوں کی سازشوں کا نتیجہ تھااس وقت بھی قادیانی پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔