ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

طالبان حکومت کا کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں کو تشویش

طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر کیمروں کے ذریعے نگرانی کا ایک نیٹ ورک بنایا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیےچین کی ٹیلی کام سازوسامان بنانے والی کمپنی ‘ہواوے’ سے مشورہ بھی کیا ہے۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سےبات کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت کابل میں پہلے سے ہی ہزاروں کیمروں کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب کہ امریکہ کے 2021 کے انخلاء سے قبل بنائے گئے منصوبوں کو دوبارہ بحال کرنا بھی آئیندہ کے اقدامات میں شامل ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر کیمرہ رول آؤٹ،ایک نئی سیکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس پر مکمل عمل درآمد میں چار سال لگیں گے۔

ان کے بقول، "اس وقت ہم کابل سیکیورٹی میپ پر کام کر رہے ہیں، جو سیکیورٹی ماہرین کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے اور اس میں بہت وقت لگ رہا ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی دو نقشے موجود ہیں، ایک جو کہ امریکہ نے پہلے بنایا تھا اور دوسرا ترکیہ کی حکومت کا تیار کردہ ہے۔”




تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ نقدی کے فقدان میں گھری طالبان حکومت کس طرح اس پروگرام کی فنڈنگ کر سکے گی جب کہ انسانی حقوق کے کارکن اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیمروں کی تنصیب مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔


.کابل میں خوراک کی امداد کی منتظر افغان خواتین،فوٹو اے پی ،28 مئی 2023

.کابل میں خوراک کی امداد کی منتظر افغان خواتین،فوٹو اے پی ،28 مئی 2023

یہ واضح نہیں کہ امر اللہ صالح نے جس منصوبے کا حوالہ دیا وہ اس سے ملتا جلتا تھا جو طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حاصل کیا ہے، اور نہ ہی یہ کہ انتظامیہ اسی میں ترمیم کرے گی۔

افغانستان سے انخلا کے دو برس مکمل، امریکہ اور طالبان نے کیا حاصل کیا؟





please wait



No media source currently available

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے میٹ محمودی نے کہا کہ "قومی سلامتی کی آڑ میں بڑے پیمانے پر نگرانی کے نظام کا نفاذ طالبان کے لیے اپنی ظالمانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایک نظام کو جنم دیتاہے جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں