مقبوضہ بیت المقدس: حماس مجاہدین القدس کی آزادی کے لیے ابابیل کی صورت صہیونی ریاست پر حملہ آور ہوئے اور منہ توڑ جواب دے کر اسرائیل کا غرور خاک کردیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل، جسے دفاع اور ٹیکنالوجی میں امریکا اور بھارت سمیت دیگر عالمی طاقتوں کا بھرپور تعاون ہونے کے ساتھ جدید اور خطرناک ترین اسلحہ کا حامل ہونے کا زعم تھا، پل بھر میں پوری دنیا کے سامنے رسوا ہوگیا۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی کے مقامی ساختہ ہتھیاروں اور جذبہ جہاد سے بھرے اپنے مجاہدین کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر حملہ کیا۔
حماس کے اسرائیل پر مزاحمتی حملے اور نتیجتاً بڑی تعداد میں فوجیوں سمیت اسرائیلیوں کی ہلاکت پر دنیا بھر میں قابض ریاست کی نام نہاد دفاعی صلاحیتوں کا پول کھل گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس نے بھاری اور جدید ہتھیاروں اور جاسوسی سے لیس ٹیکنالوجی کے حامل اسرائیلی فوج اور اداروں کو چکمہ دے کر جس طرح کامیاب کارروائی کی ہے، یہ حیران کن ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر ناقابل فراموش حملے کے لیے کم و بیش 1000 مجاہدین کی خصوصی فورس تشکیل دی گئی تھی، جنہوں نے صہیونی ریاست کا سر دنیا کے سامنے مٹی میں ملا دیا۔ بہترین اور کامیاب حکمت عملی کے تحت حماس کی اس خصوصی فورس کے جوانوں نے صہیونی ریاست کے زیر کنٹرول علاقوں میں ابابیل بن کر آسمان سے چھلانگ لگائی اور پانی کے راستے سے سمندر کا سینہ چیر کر منہ توڑ حملہ کیا اور ناجائز ریاست کی قابض فوج کو خود کو سنبھالنے تک کا موقع نہیں دیا۔
حملے کی تیاریوں کے سلسلے میں حماس نے اپنے مجاہدین کو فضا میں ابابیل کی صورت اُڑنے (پیراگلائیڈنگ)، بھاری مشینری کے استعمال اور موٹر سائیکل کو جنگی انداز میں چلا کر دشمن پر حملہ آور ہونے کی خصوصی تربیت دی تھی، اور فلسطینی بہادر جوانوں نے ان صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کو کامیاب بنایا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق آسمان سے اسرائیل میں کودنے اور زمینی و سمندری راستے سے اپنے ہدف کو دھول چٹانے کے لیے حماس نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مشق کی تھی اور اس کے لیے غزہ میں ایک فرضی اسرائیلی بستی تعمیر کرکے اسے تمام صلاحیتوں کو آزماتے ہوئے تباہ کیا تھا۔ حماس کے مجاہدین آسمان سے اس فرضی بستی میں کودتے، موٹر سائیکلز کو جنگی حالات میں چلانے کی مشق کرتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچتے اور فرضی صہیونی فوجیوں کو گرفتار کرتے ہوئے مقامات کو تباہ کرتے رہے۔
رپورٹس کے مطابق حیران کن امر یہ ہے کہ حماس کی حملہ کرنے کے لیے کی گئی ان مشقوں سے قابض صہیونی فوج بھی واقف تھی، تاہم طاقت کے زعم میں اس نے اسے اہمیت نہ دیتے ہوئے نظر انداز کیا اور یہی غلطی اسرائیل کا غرور خاک میں ملانے کا سبب ثابت ہوئی۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے حالیہ حملے کے لیے اپنے مجاہدین کی کی جانے والی خصوصی تربیت کی وڈیوز جاری کی گئی ہیں، جس میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے تربیت کار مجاہدین کو حملے اور حکمت عملی پر عمل کرنا سکھا رہےہیں۔