ویب ڈیسک —
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا، مہذہب دنیا کوحماس کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
صدر بائیڈن مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے دوران بدھ کو اسرائیل پہنچے ہیں۔ تل ابیب ایئرپورٹ پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر کا استقبال کیا۔
دورۂ اسرائیل کے بعد صدر بائیڈن کو اردن کا دورہ کرنا تھا تاہم غزہ کے ایک اسپتال پر راکٹ گرنے سے سینکڑوں فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد صدر بائیڈن نے اُردن میں عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں منسوخ کردیں۔
امریکہ نے سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر سے قبل وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن دو مرتبہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں۔
صدر بائیڈن کی اُردن کے بادشاہ عبداللہ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے عمان میں ملاقات طے تھی جسے غزہ اسپتال میں دھماکے اور بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے کہ غزہ کے الاہلی اسپتال میں دھماکے سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد صدر کا دورۂ اُردن منسوخ ہو گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن نے غزہ میں اسپتال میں دھماکوں اور معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے غزہ کی صورتِ حال پر سوگ کے اعلان کے بعد صدر بائیڈن نے اردن کے صدر عبداللہ کے ساتھ مشاورت سےا دورہ ملتوی کر دیا۔
بائیڈن کے دورے کا جزوی مقصد جنگ کو کسی وسیع تر علاقائی تنازعہ کو جنم دینے سے روکنا ہے۔ نامہ نگاروں نے ان سے اردن سربراہی اجلاس کے بارے میں سوالات کیے، لیکن بائیڈن نے جواب نہیں دیا۔
اسپتال پر فضائی حملے کے خلاف احتجاج
اردن کے وزیر خارجہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اردن نے یہ کہتے ہوئے سربراہی اجلاس منسوخ کر دیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ”خطے کو جنگ کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔
سینکڑوں فلسطینی مغربی کنارے کے بڑے شہروں بشمول فلسطینی اتھارٹی کے صدر مقام کی سڑکوں پر آگئے، جہاں مظاہرین نے فلسطینی سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا جنہوں نے جواباً اسٹن گرنیڈ فائر کیے۔
مغربی کنارے کے حکام نے بتایا کہ دیگر مظاہرین نے اسرائیلی چوکیوں پر پتھراؤ کیا، جہاں فوجیوں نے ایک فلسطینی کو ہلاک کر دیا۔
بیروت اور عمان میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سینکڑوں لوگ شامل ہوئے، جہاں ایک مشتعل ہجوم اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جمع ہوا۔
منگل کو اسرائیل کی لبنان کے ساتھ سرحد پر تشدد بھڑک اٹھا، جہاں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے عسکریت پسند سرگرم ہیں اور جہاں اسرائیل نے اپنی جانب قریبی قصبوں کو خالی کر وایا ہے۔
امریکہ میں صدر بائیڈن کی اسرائیل کے بارے میں لیڈر شپ کو ری پبلکنز کی جانب سے غیر معمولی تعریف حاصل ہوئی ہے، لیکن اضافی امداد فراہم کرنے کے امکانات غیر یقینی ہیں۔
تاہم انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور یوکرین دونوں کے لیے 2 بلین ڈالر سے زیادہ کی امداد طلب کرے گی، بائیڈن یوکرین اور اسرائیل دونوں کے لیے پرعزم ہیں۔
اسرائیل نے اسپتال پر حملے سے انکار کرتے ہوئے اس کا الزام عسکریت پسندوں پر لگایا ہے۔ جب کہ حماس نے حملے کا ذمہ دار اسرائیلی فورسز کو ٹھہرایا ہے۔
سرحد کے ساتھ دسیوں ہزار فوجیوں کے جمع ہونے کے ساتھ، اسرائیل سے غزہ پر زمینی حملہ کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہیچ نے کہا کہ ہم جنگ کے اگلے مراحل کی تیاری کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا "ہم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا ہوں گے۔ ہر کوئی زمینی حملے کی بات کر رہا ہے۔ یہ کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔”
(اس تحریر کے لیے کچھ مواد اے پی اور رائٹرز سے لیا گیا ہے)