لندن: پاکستان کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو اسرائیل کا نام لے کر تنقید نہ کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کا سامنا ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے اسرائیل کی طرف سے غزہ میں اسپتال پر دہشت گردانہ حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا اور فلسطینیوں کی امداد کیلئے تین لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی کیا۔
Why aren’t you condemning Israel openly??
— M (@anngrypakiistan) October 17, 2023
متعدد صارفین کی طرف سے ملالہ کی امداد پر تحسین کی جارہی ہے لیکن اکثر صارفین نے ملالہ یوسفزئی کو اسرائیل کا نام لے کر مذمت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
There’s a word for it, GENOCIDE and the perpetrator’s name is ISRAEL
Say it louder ma’am. https://t.co/F5LlX4rc2l— Punnu – پُنّوں 🇵🇸 (@punnu__khan) October 18, 2023
ایک صارف نے ملالہ سے پوچھا کہ وہ کھل کر اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں کررہی جبکہ ایک دوسرے صارف نے ملالہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں کھل کر نسل کش اسرائیل کی مذمت کرنی چاہئے۔
I always supported her no matter what until this. malala can condemn and take stand for ukraine but not for palestine huh? the doubles are insane. what can I expect from an american puppet. it literally takes a second to call it a genocide and take names of who are behind it. https://t.co/DaUPfCkLPQ
— desiburgerbacha (@shortiekiddo28) October 18, 2023
سوشل میڈیا پر ایک اور صارف نے لکھا کہ ملالہ روس یوکرین جنگ پر روس کی مذمت کرسکتی ہے لیکن وہ اسرائیل کی مذمت کیلئے ایک لفظ بھی منھ سے نہہں نکال رہی، یہ دوغلا پن ہے۔