واشنگٹن: امریکا میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے سیکڑوں یہود کو گرفتار کرلیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا میں ایک احتجاجی مظاہرے کے تقریباً 500 شرکا کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جو فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ پر اسرائیلی بم باری کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
آزادی اظہار رائے کے نام نہاد علم بردار امریکا نے اسرائیل نوازی کا ایک اور ثبوت دیتے ہوئے غزہ پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے خلاف اور بمباری میں شہید ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
Today, 500 Jews were arrested and 10k took to the streets to support and to demand a ceasefire and an end to Palestinian genocide.
We shut down congress to draw mass attention to the U.S. complicity in Israel’s ongoing oppression of Palestinians. But our work isn’t done. 🧵 pic.twitter.com/1aQf15Xx0D
— Jewish Voice for Peace (@jvplive) October 18, 2023
جنگ مخالف گروپ جیوش وائس فار پیس کی جانب سے کیے گئے مظاہرے کا عنوان تھا not in our name یعنی ہمارے نام پر جنگ نہ کریں۔ شرکا نے اسی نعرے کی لکھی ہوئی شرٹس پہن رکھی تھیں اور وہ امریکی کانگریس کی عمارت میں بینر اٹھائے مظاہرہ کررہے تھے، جس پر جنگ بند کرو کیونکہ غزہ میں ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں کے نعرے درج تھے۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تنظیم کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کم و بیش 10 ہزار افراد نے واشنگٹن کی سڑکوں پر اسرائیلی حملوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔