اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں اسلم نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کنسرٹ کی اجازت دینا فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑنے کے مترادف ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں اسلم نے کہا کہ اسلام آباد میں ناچ گانے کے پروگرام کی اجازت منسوخ نہیں کی گئی تو پھر ذمے داری حکومت کی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ ابھی نہیں بنتا، تب تک ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بن جاتا ہے۔ ایک جانب اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے تو دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں کنسرٹ کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ایسے ناچ گانے کے پروگرام کی اجازت دینا فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا۔
میاں محمد اسلم کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں جماعت اسلامی کے غزہ ملین مارچ کو دنیا نے چوتھے نمبر کا سب سے بڑا مارچ قرار دیا ۔ یہاں تک کہ اسرائیلی میڈیا بھی اسلام آباد میں ہونے والے غزہ ملین مارچ سے چیخ اٹھا مگر اقوام متحدہ میں 120ملکوں کی جنگ بندی کی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کردیا ، جس سے امریکا و یورپ کی انسانی حقوق کی منافقت عیاں ہوگئی ہے ۔
نائب امیر جماعت نے کہا کہ ایک طرف ہم فلسطینی عوام سے یکجہتی کررہے ہیں تو دوسری طرف لوک ورثہ میں بھی خوشیوں کا پروگرام کیا جارہا ہے ۔ لوک ورثہ میں ایک ہفتے تک ناچے گانے اجازت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایف نائن پارک اور لوک ورثہ کے ناچ گانے کے پروگرام منسوخ نہ کیے گئے تو پھر حالات کی ذمے داری حکومت پر ہوگی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں 4 تا 12 نومبر سالانہ لوک میلہ سجنے جا رہا ہے۔