یروشلم: غزہ پر ایٹم بم گرانے کی تجویز دینے والے اسرائیلی سرکاری وزیر کو اگلے نوٹس تک سرکاری اجلاسو ں سے معطل کر دیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ ہیر یٹیج منسٹر امیچا ئے الیاہو کو اگلے نوٹس آنے تک کام سے روک دیا گیا ہے اور سرکاری اجلاسوں میں شرکت نہیں کر سکتا ۔
ہیریٹیج منسٹر امیچائے الیاہونے اسرائیل کے کول براما ریڈیو کو بتایا کہ وہ 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل کے اندر حماس کے ایک مہلک حملے کے بعد فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کی جوابی کارروائی کے پیمانے سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 1,400 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔
یاد رہے کہ ہیریٹیج منسٹر امیچائے الیاہوحکمراں اتحاد کے ایک انتہائی قوم پرست سیاست دان کا حصہ ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کا بہت قریبی ہے ۔
جب انٹرویو لینے والے نے پوچھا کہ کیا اسرائیلی وزیر نے غزہ کی پٹی پر “سب کو مارنے کے لیے کسی قسم کے ایٹم بم” گرانے کی وکالت کی ہے، تو الیاہو نے جواب دیا: “یہ ایک آپشن ہے۔”
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے وزیر کے ریمارکس پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے انہیں “حقیقت سے منقطع” قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل غزہ میں “غیر جنگجو” کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اپنے تبصروں پر شور مچانے کے بعد الیاہو نے بعد میں X، جو پہلے ٹوئٹر تھا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایٹم بم کے بارے میں ان کا بیان “استعاراتی” تھا۔ اسرائیل نے کبھی بھی ایٹمی بم رکھنے کا اعتراف نہیں کیا۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم میں 9500 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔