غزہ: غزہ کی پٹی پر 45 روز سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے فلسطینیوں کی تعداد 13 ہزار سے زائد ہوگئی ہے، جن میں 5 ہزار 7سو 70 بچے اور 3ہزار 7سو خواتین شامل ہیں، مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق 13 ہزار سے زائد شہدا میں طبی عملے کے 2سو 70، سول ڈیفنس کے37 اور65 صحافی شامل ہیں، آخری شہید ہونے والے صحافی بلال جاد اللہ ہیں جو غزہ میں پریس فانڈیشن کے صدر تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حملے میں لاپتہ افراد کی تعداد 7 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے جو یا تو ملبے کے نیچے ہیں یا ان کی لاشیں گلیوں میں پڑی ہیں، سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے ان تک رسائی ممکن نہیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی بمباری میں غزہ میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 47 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے، جن میں سے 75 فیصد سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق تباہ ہونے والے سرکاری ہیڈ کوارٹرز کی تعداد 97 تک پہنچ گئی ہے اوراب تک3سو کے قریب اسکول تباہ ہوچکے ہیں، مکمل طور پر تباہ ہونے والی مساجد کی تعداد95 جبکہ 7 گرجا گھروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ جزوی طور پر تباہ ہونے والی مساجد کی تعداد 176 مساجد تک پہنچ گئی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل بمباری کے نتیجے میں غزہ میں 30 لاکھ سے زائد لوگ بھوک کا شکار ہیں، عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے ضروری اشیائے خوردونوش کا بمشکل دسواں حصہ ہی غزہ میں داخل ہوسکا ہے،بڑے پیمانے پر بھوک اور یہاں تک کہ فاقہ کشی کا خطرہ ہے۔