ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

افغانستان میں شیعہ مسجد پر دہشت گرد حملے میں چھ افراد ہلاک

افغانستان میں طالبان حکام نے منگل کو بتایا کہ ایران کی سرحد کے ساتھ واقع ایک علاقے میں ایک شیعہ مسجد پر ایک نامعلوم مسلح شخص کے حملے میں ایک بچے سمیت کم ازکم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ ہرات کے ضلع گذرہ میں ایک نامعلوم شخص نے ایک مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ترجمان عبدالمتین قانع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ اس حملے میں کہ چھ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن اس کا شک ایک علاقائی گروپ اسلامک اسٹیٹ خراسان پر کیا جا رہا ہے ۔ یہ گروپ داعش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔


15 اگست 2023 کو کابل، افغانستان میں طالبان کے کابل پر قبضے کی دوسرے سال کی تقریب میں طالبان فوجی گارڈکھڑے ہیں۔ رائٹرز

15 اگست 2023 کو کابل، افغانستان میں طالبان کے کابل پر قبضے کی دوسرے سال کی تقریب میں طالبان فوجی گارڈکھڑے ہیں۔ رائٹرز

داعش ایک سنی انتہا پسند گروپ ہے جو اس سے قبل ملک میں اہل تشیع کی مساجد، اسپتالوں اور عوامی اجتماعات پر ہونے والے تقریباً تمام حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔

کابل میں ایران کے سفیر حسن کاظمی قمی نے پیر کی رات ہونے والے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش خراسان، دونوں ہمسایہ ملکوں اور خطے کے دیگر علاقوں کے لیے ایک مشترکہ بیرونی خطرہ ہے۔

حسن کاظمی قمی نے، جو افغانستان کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی بھی ہیں، مختصر پیغام رسانی کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کو اپنا شراکت دار سمجھتے ہیں اور اس علاقے میں ان کا تعاون ہماری اولین ترجیح ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن یو این اے ایم اے نے مسجد پر فائرنگ کی مذمت کی ہے۔

یو این اے ایم اے نے ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس حملے کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف تحقیقات، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے اور افغانستان کی شیعہ کمیونٹیی کے تحفظ کے لیے اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

اسلامک اسٹیٹ خراسان (داعش) اس سے قبل حکمران طالبان سے منسلک لیڈروں اور اہم مذہبی اسکالرز کے خلاف ہلاکت خیز بم حملوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا ہے۔

سن 2021 میں طالبان کے افغانستان کے اقتدار پر دوبارہ قبضے کے بعد سے ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو ممالک نے 2021 میں اپنی 20 سالہ جنگ ختم کرتے ہوئے افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں جس سے ملک پر قائم اشرف غنی کی حکومت منہدم ہو گئی تھی اور طالبان نے کابل میں داخل ہو کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

(وی او اے نیوز)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں