ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گریڈ 17 کے افسر نے میتھ میں بی اے کیا ہے، سندھ ہائی کور ٹ کے جج حیران

Grade 17 officer has BA in Maths

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس صلاح الدین پہنور اُس وقت حیران رہ گئے جب 17 گریڈ کے ایک افسر نے استفسار پر بتایا کہ انہوں نے میتھ میں بی اے کیا ہے۔

ہفتے کے روز سندھ ہائیکورٹ میں قریشی کوآپریٹو سوسائٹی میں لیز پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹی محرم علی ساند عدالت کے طلب کیے جانے پر پیش ہوئے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رجسٹرار قریشی کوآپریٹو سوسائٹی محرم علی ساند نے لیز پلاٹوں کی لیز منسوخ کر دی ہے، جس پر درخواست گزار عدالت سے انصاف کی استدعا کر رہے ہیں۔

دوران سماعت عدالت نے محرم علی ساند پر اظہار برہمی کیا، وہ اپنی تعلیمی قابلیت سے متعلق پوچھے گئے سوالات سے جج کو مطمئن نہ کر سکے، جسٹس صلاح الدین پہنور نے استفسار کیا کہ کون سے محکمے کے ملازم ہو؟ محرم علی ساند نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ میں گریڈ 17 کا افسر ہوں۔

جسٹس صلاح الدین پہنور نے پوچھا آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟ محرم علی ساند نے بتایا ریاضی میں بی اے کیا ہے، جسٹس صلاح الدین پہنور نے پوچھا کہ میتھ میں بی اے کون سی یونیورسٹی سے ہوتا ہے؟ محرم علی ساند نے بتایا کہ شاہ لطیف یونیورسٹی سے پرائیویٹ میں بی اے کیا ہے۔

عدالت نے محرم علی ساندھ سے پھر استفسار کیا کہ میتھ کے اسپیلنگ کیا ہیں؟ تاہم جب لوکل گورنمنٹ کا گریڈ 17 کا افسر میتھ کے اسپیلنگ بتانے میں ناکام رہے تو وکلا اور سائلین کے قہقہے نکلے۔

وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز ضمیر عباسی بھی گریڈ 18 کے افسر ہیں، جب کہ وہ گریڈ 19 میں تعینات ہیں، عدالت نے اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 22 مئی تک ملتوی کر دی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں